ٹرمپ انتظامیہ نے نئی سفری پابندیوں کے منصوبے کا آغاز کردیا جس کے تحت مزید 36 ممالک کے شہریوں پر امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔
36 ممالک کی اس فہرست میں انگولا، کمبوڈیا، نائیجیریا، یوگنڈا، مصر، گھانا، تنزانیہ، زیمبیا، زمبابوے سمیت افریقی، ایشیائی اور کیریبیئن خطے کے متعدد ممالک شامل ہیں تاہم ان ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نام شامل نہیں ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دستخط شدہ یادداشت کے مطابق محکمہ خارجہ کی جانب سے فہرست میں شامل ممالک کو نئے معیار اور تقاضے پورے کرنے کے لیے 60 دن کی مہلت دی جا رہی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ متعدد ممالک کے شہریوں کی بڑی تعداد ایسی ہے جو ویزے کی مدت ختم ہونے کے باوجود امریکا میں مقیم ہے جبکہ بعض شہریوں کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ امریکا مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔
محکمہ خارجہ کی جانب سے یادداشت، جس پر وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دستخط ہیں، میں واضح کیا گیا ہے کہ پابندی کی زد میں آنے والے ممالک کو 60 دن کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ امریکی شرائط کو پورا کریں اور غیر قانونی امیگریشن پر قابو پائیں۔
یادداشت میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اگر کوئی ملک تیسرے ملک کے شہریوں کو واپس قبول کرنے پر رضامند ہو جاتا ہے تو امریکا اس پر عائد ویزا پابندیاں نرم کر سکتا ہے۔
چند روز قبل صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت 12 ممالک کے شہریوں کے امریکا داخلے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
جن ممالک کے شہریوں پر پابندی عائد کی گئی تھی ان میں افغانستان، میانمار، چاڈ، جمہوریہ کانگو، اکویٹرل گنی، اریٹیریا، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل تھے۔
اس کے علاوہ برونڈی، کیوبا، لاؤس، سیرالیون، ٹوگو، ترکمانستان اور وینزویلا کے شہریوں کے داخلے پر بھی جزوی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں بھی سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی جس پر کئی قانونی چیلنجز کے بعد 2018 میں سپریم کورٹ نے مہرِ توثیق ثبت کی تھی۔