سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف جنگ کو اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم طویل عرصے سے ایران سے جنگ کے خواہاں تھے تاکہ وہ خود کو حکومت میں رکھنے کا جواز فراہم کرسکیں۔
بل کلنٹن نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے 20 سالوں میں زیادہ تر وقت نیتن یاہو ہی وزیراعظم رہے۔
سابق امریکی صدر کلنٹن نے موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ انہیں اس صورتحال میں مزید جنگی اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔
بل کلنٹن کا کہنا تھا کہ ’مشرق وسطیٰ میں اپنے دوستوں کو یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ ہم اُن کے ساتھ ہیں اور اُن کا تحفظ کریں گے۔‘
’لیکن غیراعلانیہ جنگوں کا حصہ بننا جن میں عام شہری مارے جائیں جن کا کوئی لینا دینا نہ ہو، اور جو ایک اچھی زندگی جینا چاہتے ہیں، جواز کچھ بھی دیں یہ کوئی اچھا حل نہیں ہے۔‘
دوسری جانب امریکی فوج نے اسرائیل کی جنگ میں براہِ راست شامل ہوتے ہوئے اتوار کی صبح ایران میں تین مقامات کو نشانہ بنایا ہے تاکہ تہران کے جوہری پروگرام سے لاحق خطرے کے پیش نظر دشمن کو کمزور کیا جا سکے۔
امریکہ کو براہِ راست میں جنگ میں شامل کرنے کا فیصلہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر ایک ہفتے سے زائد جاری رہنے والے حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔
بعد ازاں، اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ آج رات جو امریکا اور صدر ٹرمپ نے غیر معمولی طاقت کا مظاہرہ کیا، امریکا واقعی بے مثال ہے۔
نیتین یاہو نے کہا کہ تاریخ میں یہ لکھا جائے گا کہ صدر ٹرمپ نے دنیا کے سب سے خطرناک نظام کو دنیا کے سب سے خطرناک ہتھیاروں سے محروم رکھنے کے لیے اقدام کیا۔