نریندر مودی کی زیرِ قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کا سیکولر چہرہ بری طرح بے نقاب ہوتا جا رہا ہے، بھارت سیکولر نہیں بلکہ انتہا پسند اسٹیٹ بنتا جا رہا ہے، بی جے پی کی انتہا پسند حکومت نے لاؤڈ اسپیکر کے بعد ’اذان‘ پر بھی پابندی عائد کر کے مسلمانوں کی مذہبی آزادیوں کو مکمل سلب کر لیا ہے۔
بی جے پی کی انتہا پسند مودی حکومت نے حالیہ دنوں میں ممبئی میں مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی لگا کر عملی طور پر اذان پر پابندی عائد کر دی ہے، جسے انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مسلم رہنما اقلیتوں کے حقوق کو سلب کرنے کی ایک منظم کوشش قرار دے رہے ہیں کہ مسلمانوں کو مکمل نظر انداز کیا جائے اور ان کی مذہبی شناخت کو مٹایا جائے۔
ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کے مطابق ’ممبئی شہر اب مکمل طور پر لاؤڈ اسپیکر سے پاک ہو چکا ہے‘۔ ان کے بقول، تمام مذہبی مقامات سے پبلک کو مخاطب کرنے کا کوئی بھی سسٹم ہٹا دیا گیا ہے۔ اگرچہ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام آواز کی آلودگی کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کا نفاذ خاص طور پر مساجد اور اسلامی روایات کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
اس پابندی کے بعد ممبئی کی کئی مساجد اور نمازیوں نے ‘آن لائن اذان’ نامی موبائل ایپ کا سہارا لیا ہے جسے تامل ناڈو کی ایک کمپنی نے تیار کیا ہے، اس ایپ کے ذریعے اذان اور نماز کے اوقات کی اطلاعات دی جاتی ہیں اور یہ ایپ اب ممبئی میں بڑی تعداد میں استعمال ہو رہی ہے۔
بہت سے مسلمانوں کے لیے یہ ٹیکنالوجی کوئی حل نہیں، بلکہ ریاستی جبر کے خلاف ایک مجبوری بن چکی ہے۔ ایک مقامی امام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’اذان صرف نماز کی اطلاع نہیں، بلکہ ہماری شناخت ہے، ہماری ثقافت ہے، ہمارے وجود کا اعلان ہے۔ اسے خاموش کرنا گویا ہمیں مٹانے کی کوشش ہے‘۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مودی حکومت کی اس وسیع پالیسی کا حصہ ہے جس میں مسلمانوں کو ملک کے مرکزی دھارے سے نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ چاہے وہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ ہو یا شہریت ترمیمی قانون (سی سی اے) جیسے متنازع اقدامات، بی جے پی حکومت پر بارہا ہندوتوا نظریہ مسلط کرنے کا الزام لگتا رہا ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی تنظیمیں بھارت پر مذہبی آزادیوں کو پامال کرنے اور آئینی سیکولرزم سے انحراف کا الزام لگا چکی ہیں۔
نئی دہلی کی ایک سول سوسائٹی تنظیم کے ترجمان نے کہا کہ ’ہم ایک ایسی صورتحال دیکھ رہے ہیں جس میں مسلمانوں کی عوامی موجودگی کو رفتہ رفتہ ختم کیا جا رہا ہے۔ اذان پر لاؤڈ اسپیکر کی پابندی شور کی آلودگی کے بارے میں نہیں، بلکہ ایک پیغام دینے کی کوشش ہے کہ اسلام کا نئے بھارت میں کوئی مقام نہیں ‘۔
جب دنیا بھارت میں جمہوریت کے زوال کو فکر مند نگاہوں سے دیکھ رہی ہے، تو ملک کے بہت سے شہری سوال کر رہے ہیں کہ ’اگر اذان کو خاموش کیا جا سکتا ہے، تو پھر کون سی آزادی باقی رہ گئی ہے‘؟۔