مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے تقریباً 3 ہفتوں بعد بھارت کے پاکستان پر جھوٹے الزامات کی آڑ میں’آپریشن سندور‘ کے نام سے جارحیت کی، جس نے نہ صرف بھارت میں بلکہ عالمی سطح پر سیاسی و سفارتی پر ایک بحث چھیڑ دی ہے۔
بھارت کی مودی سرکار نے پاکستان کے خلاف جارحیت کو حکومت بھارت نے ایک جدید اور مؤثر عسکری جواب کے طور پر پیش کیا۔ تاہم جیسے جیسے بھارت کے نام نہاد ’آپریشن سندور‘ کی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں، اس آپریشن کی کامیابی، اس پر سیاسی اثر و رسوخ اور اس کے طویل المدتی نتائج پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
آزاد ریسرچ کے مطابق انڈونیشیا کے دارلحکومت جکارتہ میں تعینات بھارتی دفاعی اتاشی کی ایک خفیہ بریفنگ کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں جن میں انہوں نے واضح بتایا ہے کہ ’بھارتی فوج کو آپریشن کی پہلی رات ہی نمایاں نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ‘ ہے تاہم تاحال حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر اس نقصان کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
آزاد ریسرچ کے مطابق اب مودی حکومت اور بھارتی فوج آمنے سامنے آ گئی ہیں جس کے بعد اب بھارتی فوج اندرونی طور پر یہ بیانیہ دے رہی ہے کہ پاکستان کے جوابی حملے میں ہونے والے نقصانات وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے فوج پر عائد کردہ پابندیوں کے باعث پیش آئے، جنہوں نے آپریشن سندور کے تحت پاکستان پر حملے محدود کر دیے تھے۔
آزاد ریسرچ کے مطابق دوسری جانب بھارت کے اندرونی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر بھارتی افوج پاکستان پر حملوں کے محدود اختیار ملے تھے تو پہلگام جیسے ہائی سیکیورٹی زون میں اتنے بڑے حملے کیسے ہو گئے کیونکہ حملہ کرنے والے 4 نام نہاد دہشتگرد تاحال مفرور ہیں، حالانکہ ان کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشنز جاری ہیں جن میں ملکی انٹیلیجنس اور سیکیورٹی ادارے شامل ہیں۔
آزاد ریسرچ کے مطابق ملکی سطح پر تو مودی سرکار کے جھوٹ اور پروپیگنڈے پر بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل رہی تاہم بھارت کو عالمی حمایت کے حصول کے لیے ایک آل پارٹی وفد بھی روانہ کرنا پڑا۔ تاہم بین الاقوامی برادری بھارت کے دعوؤں پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہو سکی، بلکہ کئی اہم ممالک نے بھارت کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان دعوؤں اور الزامات کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کی حقیقت یہ ہے کہ اس نے نہ صرف دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے بجائے خطے میں کشیدگی کو بڑھایا ہے، بلکہ بھارت کی عالمی سفارتی پوزیشن کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
آزاد ریسرچ کے مطابق بھارت کے ریٹائرڈ اعلیٰ فوجی افسران اور اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اس آپریشن کو جس طرح عوام کے سامنے پیش کیا گیا، وہ صرف داخلی سیاسی فائدے کے لیے تھا، لیکن بین الاقوامی سطح پر اس کی سچائی پر سوالات اٹھ رہے ہیں‘۔
دوسری جانب حکومت اس آپریشن کو کامیابی اور طاقت کی علامت کے طور پر پیش کر رہی ہے، ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس کے وسیع تر اثرات جیسے کہ سفارتی تنہائی اور قومی سلامتی پر اعتماد کا بحران، مستقبل قریب میں زیادہ گہرے ہو سکتے ہیں۔
آزاد ریسرچ کے مطابق بھارت کے اندر یہ سوالات تیزی سے ابھر رہے ہیں کہ پہلگام واقعے پر اب تک نہ کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے، نہ کوئی انٹیلیجنس بریک تھرو ہوا، اور نہ ہی حملے کی وجوہات کا سراغ مل سکا ہے۔ ایسے میں آپریشن سندور نہ صرف بھارت کی اندرونی صورت حال کے لیے کا ایک نیا موڑ بن سکتا ہے، بلکہ بھارت کے قومی سلامتی کے نظام کی ساکھ کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی بن سکتا ہے۔