بھارتی حکومت کی متنازع اگنی ویر اسکیم ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں ہے، کانگریس رہنماء راہول گاندھی نے اسکیم کو “کارپوریٹ منافع کے لیے نوجوانوں کے مستقبل کی قربانی” قرار دے دیا۔
مودی کی اگنی ویر سازش نے کروڑوں نوجوانوں کو مستقل روزگار سے محروم کر کے چار سالہ جنگی غلامی میں دھکیل دیا، اگنی ویر سازش کے تحت سپاہیوں سے پنشن، تحفظ اورمستقل نوکری کا حق چھین کر اڈانی کو اربوں کے دفاعی ٹھیکے دیے۔
اگنی ویر سازش کے تحت مودی راج نے قومی سلامتی کے اداروں کو ذاتی مفادات اور سرمایہ داروں کے تجارتی عزائم کے تابع کر دیا۔
راہول گاندھی نے انکشاف کیا ہے کہ “اگنی ویر اسکیم کا اصل مقصد فوجیوں کی پنشن، تنخواہوں اور اہل خانہ کی فلاح کے فنڈز کو کارپوریٹ دفاعی سودوں کی طرف منتقل کرنا تھا، سپاہیوں کی پنشن کا پیسہ نکال کر اڈانی ڈیفنس کے اسلحہ کے کنٹریکٹس پر لگایا گیا، جو صرف لیبلنگ فیکٹری ہے ۔
راہول گاندھی نے مزید کہا کہ اڈانی ڈیفنس نہ ہتھیار بناتا ہے نہ ڈرون، صرف بیرونِ ملک سے منگوایا گیا اسلحہ اپنے لیبل سے فروخت کرتا ہے ، یہ اسکیم سپاہیوں کی قربانی کو اڈانی کے منافع میں بدلنے کی سازش ہے۔
کانگریس رہنما نے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے کہا کہ اگنی ویر اسکیم میں قومی دفاع کو کاروباری ماڈل میں جھونک دیا گیا ، مودی سرکار نے وردی کا خواب بیچ کر اڈانی کو اربوں کےکنٹریکٹس تھما دیے، نوجوانوں کے جذبے کو کاروبار میں بدل دیا ۔
راہول گاندھی نے کہا کہ بی جے پی جنگی فضا بنا کر اسلحے کے نام پر اپنے قریبی سرمایہ داروں کو نواز رہی ہے، اگنی ویر کے جھانسے میں آکر غریب نوجوان قربانی دے رہے ہیں ، مودی نے ملک کی فوج کو قومی دفاع کے بجائے اڈانی جیسے دوستوں کے بزنس ماڈل کا حصہ بنا دیا ہے۔
ان کاکہنا تھا کہ اگنی ویر اسکیم صرف کارپوریٹ منافع کا ایک خاموش ہتھیار بن چکی ہے، جوسیکیورٹی کے نام پر سرمایہ داروں کی جیبیں بھرتی ہے،اڈانی ڈیفنس غیر ملکی ہتھیاروں پر اپنا لیبل لگا کر قوم کو “میڈ اِن انڈیا” کا فریب دے رہا ہے۔
راہول گاندھی نے کہا کہ اگنی ویر کوبھارتی عوام پر حب الوطنی کے نام پر مسلط کر کے منافع کمایا جا رہا ہے اور مودی راج کی بھارتی نوجوانوں کے مستقبل پر مسلط جنگ ہے، بی جے پی کی جنگی سیاست کا سارا فائدہ اڈانی کو جاتا ہے ، اگنی ویر اسکیم نوجوانوں کے خوابوں کا سودا اور اڈانی کی تجوریاں بھرنے کا منصوبہ ثابت ہوئی۔