روپیہ پھر دباؤ کا شکار، انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالرکی قدر میں اضافہ

روپیہ پھر دباؤ کا شکار، انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالرکی قدر میں اضافہ

پاکستانی روپے کے لیے ایک اور مشکل دن سامنے آیا ہے، امریکی ڈالر کی کرنسی مارکیٹ میں پھر سے قدر بڑھنے لگی ہے۔ انٹربینک مارکیٹ اور اوپن مارکیٹ دونوں میں ڈالر کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ڈالر انٹربینک میں 23 پیسے مہنگا

کرنسی ڈیلرز کے مطابق پیر کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت میں 23 پیسے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد ڈالر 284.20 روپے پر پہنچ گیا ہے۔ یہ مسلسل چوتھا دن ہے کہ ڈالر کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے، جو ملکی درآمدات اور بیرونی قرضوں پر مزید دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔

اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر مہنگا مہنگا

اوپن مارکیٹ میں بھی امریکی ڈالر کی قدر میں 25 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے، جس کے بعد اس کی قیمت 286 روپے 65 پیسے تک جا پہنچی ہے۔ کرنسی ایکسچینج کمپنیوں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

ماہرین کی تشویش

معاشی ماہرین نے روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ نے روپے کی پوزیشن کمزور کر دی ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو مقامی مارکیٹ میں مہنگائی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

مستقبل کی پیش گوئی

مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ معاشی صورتحال برقرار رہی، تو ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ روپے کو مستحکم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے تاکہ درآمدات، کاروبار اور عام شہریوں پر پڑنے والا معاشی بوجھ کم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت آغاز ، ڈالر کی قیمت میں مزید کمی

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گرتی ہوئی قدر ملک کی مجموعی معیشت کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے، جس سے فوری نمٹنے کی ضرورت ہے۔

Related Articles