پاکستان اور چین نے دوطرفہ تزویراتی و اقتصادی تعلقات کو مزید پائیدار اور وسیع بنانے کے لیے ایک بہت بڑا سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے 15 اہم ترین مفاہمتی یادداشتوں اور تجارتی معاہدوں پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس تاریخی تقریب میں پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چین کے وزیراعظم لی چیانگ خود موجود تھے، جن کی زیرِ نگرانی دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے دستاویزات کا تبادلہ کیا۔
معاہدوں کی تفصیلی خبری رپورٹ
تقریب کے دوران زراعت، ماحولیات، تجارت، میڈیا، دفاع اور پبلک پالیسی سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کو حتمی شکل دی گئی۔ اقتصادی ترقیاتی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر پاکستان کے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور چینی قومی ترقی و منصوبہ بندی کمیشن کے ڈائریکٹر ژینگ سانجی نے دستخط کیے۔
ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں تعاون سے متعلق اہم ترین دستاویز پر چین کے وزیر ماحولیات ہوانگ رنچیانگ اور پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی نے دستخط کیے۔
زرعی شعبے میں بڑی پیش رفت کے طور پر، پاکستان اور چین کے درمیان ویٹرنری ویکسین عطیہ کی حوالگی کی دستاویز پر وفاق کے وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین اور چین کے وزیر زراعت ژانگ ژو نے دستخط کیے۔
اس کے ساتھ ہی، پاکستانی زراعت کو چینی مارکیٹ تک رسائی دینے کے لیے خشک میوہ جات اور ڈرائی فروٹ کے معائنہ، قرنطینہ اور حفظانِ صحت کے تقاضوں سے متعلق پروٹوکول کی یادداشت پر چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کی وزیر سن می جون اور پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی نے دستخط کیے۔
مکئی کے لیے نباتاتی صحت کے تقاضوں سے متعلق پروٹوکول کی یادداشت پر بھی چینی وزیر سن می جون اور پاکستان کے سیکرٹری صنعت و پیداوار سیف انجم نے دستخط کیے۔
مطابقتی جانچ میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط چین کی اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن آف مارکیٹ ریگولیشن کے ڈائریکٹر لوووین اور پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی کے درمیان ہوئے۔
میڈیا اور اطلاعات کے شعبے میں تعاون کو بڑھاتے ہوئے، چینی خبر رساں ایجنسی شنہوا اور پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور چینی ایجنسی شنہوا کے صدر فو ہوا نے دستخط کیے۔
اس کے علاوہ چائنا میڈیا گروپ اور پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کے درمیان مشترکہ ڈاکومنٹری پروڈکشن میں تعاون کی ایک اور اہم یادداشت پر بھی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور چائنا میڈیا گروپ کے صدر شینگہائی ژونگ نے دستخط کیے۔
تعلیمی اور انتظامی شعبے میں، چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پارٹی اسکول اور پاکستان نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر پارٹی اسکول کے نائب صدر شی چن تاؤ اور پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی نے دستخط کیے۔
سائنس و ٹیکنالوجی میں عوامی تبادلوں کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط چائنہ ایسوسی ایشن آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے پارٹی برانچ سیکرٹری ہی جونکے اور پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی کے مابین ہوئے۔
سفارتی اور تجارتی شعبے میں پاکستان اور چین کے درمیان آزاد تجارت اور کثیر الجہتی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر چین کے نائب وزیر تجارت یان ڈونگ اور پاکستان کے سیکرٹری تجارت جواد پال نے دستخط کیے۔
سکیورٹی کے شعبے میں، انسدادِ دہشتگردی آلات میں تعاون کی دستاویز اور انسانی وسائل کی ترقی کے تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر چائنہ انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے چیئر مین چن ژیاڈونگ اور پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی نے دستخط کیے۔
جبکہ زرعی شعبے میں ایک اور مفاہمتی یادداشت پر وفاقی وزیر احسن اقبال اور چیئرمین چن ژیاوڈونگ نے دستخط کیے۔ آخر میں، چین فارن افیئرز یونیورسٹی اور پاکستان فارن سروس اکیڈمی کے درمیان تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر ڈی جی پاکستان فارن سروس اکیڈمی سعید جیلانی اور چینی فارن افیئرز یونیورسٹی کے پارٹی سیکرٹری وانگ شٹنگ نے دستخط کیے۔
پاک چین سفارتی تعلقات کا تاریخی تسلسل
یہ معاہدے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان اور چین اپنے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے کو تیز کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان زیادہ تر تعاون بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) اور توانائی کے منصوبوں تک محدود تھا، لیکن اب پاکستان کو درپیش اقتصادی اور موسمیاتی چیلنجز کے پیشِ نظر اس تعاون کا دائرہ کار زراعت، لائیوسٹاک، بیوروکریسی کی تربیت، اور ماحولیاتی تبدیلیوں تک بڑھانا ناگزیر ہو چکا تھا، جس کا عکس ان 15 معاہدوں میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔
ان 15 معاہدوں سے پاکستان کو کیا حاصل ہوگا؟
بیجنگ میں ہونے والے ان معاہدوں کی نوعیت ظاہر کرتی ہے کہ پاک چین شراکت داری اب محض سڑکوں اور بجلی کے گھروں سے آگے نکل کر ’عوامی اور ادارہ جاتی سطح‘ پر منتقل ہو رہی ہے۔
زراعت اور برآمدات میں انقلاب
خشک میوہ جات اور مکئی کے قرنطینہ اور صحت کے تقاضوں (پروٹوکولز) پر دستخط پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں۔ چین دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، اگر پاکستانی ڈرائی فروٹ اور مکئی چینی معیار کے مطابق برآمد ہونا شروع ہو جائیں تو ملکی برآمدات میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
مزید برآں چین کی طرف سے ویٹرنری ویکسین کا عطیہ پاکستان میں لائیوسٹاک (مویشیوں) کی بیماریوں پر قابو پانے میں مدد دے گا۔
دفاعی اور داخلی سیکیورٹی
انسدادِ دہشتگردی کے آلات میں تعاون کا معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ چین پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے اور سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے اسلام آباد کو جدید ترین ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
ادارتی مضبوطی اور سافٹ پاور
میڈیا گروپس (پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان اور چینی میڈیا) کے مابین مشترکہ دستاویزی فلموں کی تیاری اور خبروں کا تبادلہ عالمی سطح پر دونوں ممالک کے بیانیے کو مضبوط کرے گا۔
اسی طرح پبلک پالیسی اسکولوں اور فارن سروس اکیڈمیز کے درمیان روابط سے پاکستانی افسر شاہی (بیوروکریسی) کو چین کے کامیاب گورننس ماڈل کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔ مجموعی طور پر یہ دورہ پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے چینی مدد کا ایک مضبوط اور واضح روڈ میپ پیش کرتا ہے۔