وزیر اعظم شہباز شریف کے دور چین کے دوران پاکستان اور چین کی کمپنیوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے 7 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
نجی ٹی وی کے مطابق یہ معاہدے چین کے شہر ہانگژو میں منعقدہ پاکستان چین بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ کانفرنس کے دوران طے پائے، جس میں زراعت، آئی ٹی، خصوصی اقتصادی زونز، کان کنی اور معدنیات سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔
کانفرنس کے دوران ہاولو انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ اور فوجی فرٹیلائزر کے درمیان کھاد کی پیداوار سے متعلق 1.12 ارب ڈالر کا معاہدہ طے پایا، جبکہ آئی بی آئی بیجنگ یونائیٹڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی اور آر آئی سی کے درمیان ایگرو کیمیکل، زرعی مشینری اور ملتان میں ریجنل آفس کے قیام سے متعلق 10 کروڑ ڈالر کی مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ زراعت، آئی ٹی، کان کنی اور خصوصی اقتصادی زونز میں وسیع مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو تمام سہولیات فراہم کرے گی اور کراچی میں خصوصی اقتصادی زون میں صنعتوں کے قیام کو مکمل سپورٹ دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ بہتر زرعی پالیسیوں کے ذریعے آئندہ پانچ سے سات برسوں میں چین کو زرعی برآمدات 10 ارب ڈالر تک بڑھائی جا سکتی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی بے مثال ہے اور دونوں ممالک ترقی کے سفر میں ایک ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں انہوں نے صدر شی جن پنگ کی قیادت کو سراہتے ہوئے انہیں عالمی سطح پر ایک مؤثر رہنما قرار دیا۔
کانفرنس میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، پاکستانی و چینی سرمایہ کاروں اور مختلف کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔