صوبائی دارالحکومت لاہور میں ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کو آسان بنانے اور شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک بڑا اور انقلابی قدم اٹھایا گیا ہے۔
سٹی ٹریفک پولیس نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے تعاون سے شہر کے متعدد سرکاری اسپتالوں میں ‘فری میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ سینٹرز’ قائم کر دیے ہیں، جس کے بعد اب شہریوں کو لائسنس بنوانے کے لیے نجی ڈاکٹروں یا ایجنٹ مافیا کو بھاری فیسیں نہیں دینی پڑیں گی۔
چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور کے مطابق، اس نئی سہولت کے تحت شہری اب نامزد سرکاری اسپتالوں سے بالکل مفت میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔
ابتدائی مرحلے میں لاہور کے 13 بڑے سرکاری اسپتالوں میں یہ فری ڈرائیونگ لائسنس فٹنس سرٹیفکیٹ سینٹرز باقاعدہ طور پر فعال کر دیے گئے ہیں۔
ان اسپتالوں میں ڈی ایچ کیو میاں میر اسپتال، ڈی ایچ کیو مزنگ، جنرل اسپتال غازی آباد اور تحصیل ہیڈ کوارٹرز (ٹی ایچ کیو) اسپتال سبزہ زار شامل ہیں جہاں شہریوں کی سہولت کے لیے خصوصی میڈیکل کاؤنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ گورنمنٹ اسپتال سمن آباد، قلعہ گجر سنگھ، شاہدرہ، بلال گنج، سوڈیوال، کاہنہ، رائیونڈ اور سوامی نگر اسپتال بھی اس مفت سہولت کے دائرہ کار میں شامل ہیں۔
سی ٹی او لاہور نے اس پالیسی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ قانون کے مطابق کمرشل (تجارتی) ڈرائیونگ لائسنس کے حصول اور 50 سال سے زیادہ عمر کے تمام افراد کے لیے میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا قانونی طور پر لازمی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ماضی میں اس سرٹیفکیٹ کے نام پر ہونے والی جعلی سازی اور دلالوں کے گٹھ جوڑ کو ختم کرنے کے لیے ایک جدید ’ڈیجیٹل نظام‘ متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اب آن لائن میڈیکل ویری فکیشن (تصدیق) کے ذریعے پورے عمل کو مانیٹر کیا جائے گا، جس سے نظام میں شفافیت، جوابدہی اور ٹریفک پولیس پر عوامی اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
لاہور جیسے گنجان آباد شہر میں، جہاں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی تعداد کروڑوں میں ہے، ڈرائیونگ لائسنس کا حصول ہمیشہ سے ایک پیچیدہ عمل رہا ہے۔ ٹریفک قوانین کے تحت، پبلک ٹرانسپورٹ یا کمرشل گاڑیاں چلانے والوں اور 50 سال سے زیادہ عمر کے بزرگ شہریوں کے لیے نظر (بینائی) اور عمومی جسمانی صحت کا فٹنس سرٹیفکیٹ پیش کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ سڑکوں پر حادثات سے بچا جا سکے۔
ماضی میں شہریوں کو یہ سرٹیفکیٹ بنوانے کے لیے سرکاری اسپتالوں کی لمبی لائنوں میں لگنا پڑتا تھا یا پھر لائسنس دفاتر کے باہر بیٹھے ایجنٹس کو رشوت دے کر جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنوانا پڑتا تھا۔
اس سال 2026 میں ٹریفک پولیس کی جانب سے ڈیجیٹلائزیشن کی مہم کے تحت جہاں لائسنسنگ کے نظام کو آن لائن کیا گیا ہے، وہاں اب 13 اسپتالوں میں ‘فری کاؤنٹرز’ کا قیام ٹریفک مینجمنٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ایک کڑی ہے۔
ایجنٹ مافیا اور کرپشن کا جڑ سے خاتمہ
لائسنسنگ مراکز کے باہر کام کرنے والے دلالوں کا سب سے بڑا ہتھیار ‘میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ’ ہوتا تھا، جس کے لیے وہ سیدھے سادھے شہریوں سے ہزاروں روپے بٹورتے تھے۔ 13 اسپتالوں میں مفت کاؤنٹرز کے قیام سے عام آدمی براہِ راست ڈاکٹر تک پہنچ سکے گا، جس سے کرپشن کا بازار ٹھنڈا ہو جائے گا۔
آن لائن ڈیجیٹل ویری فکیشن کے دور رس اثرات
سی ٹی او لاہور کا ‘ڈیجیٹل نظام’ متعارف کرانے کا فیصلہ گیم چینجر ہے۔ اب جیسے ہی کوئی سرکاری ڈاکٹر کسی شہری کا معائنہ کر کے اسے فٹ قرار دے گا، وہ ڈیٹا فوری طور پر ٹریفک پولیس کے مرکزی کمپیوٹر نیٹ ورک میں آن لائن منتقل ہو جائے گا۔
اس اقدام سے کوئی بھی شخص گھر بیٹھے یا کمپیوٹر سے جعلی مہریں لگا کر سرٹیفکیٹ نہیں بنا سکے گا، جس سے سڑکوں پر صرف وہی ڈرائیور آئیں گے جو عسکری اور طبی لحاظ سے واقعی اہل ہیں۔