پنجاب کا 5131 ارب روپے کا بجٹ آج پیش ہوگا، تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا امکان

پنجاب کا 5131 ارب روپے کا بجٹ آج پیش ہوگا، تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا امکان

پنجاب حکومت آج آئندہ مالی سال کا 5 ہزار 131 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کرے گی، جس میں سرکاری ملازمین، طلبہ، کسانوں اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے کئی اہم اعلانات متوقع ہیں۔

تنخواہوں اور پنشن میں اضافے سے لے کر تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کے نئے منصوبوں تک، یہ بجٹ صوبے کے کروڑوں شہریوں کی زندگیوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ عوام، کاروباری حلقے اور سرکاری ملازمین اس بجٹ کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔

صوبائی وزیرِ خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن بجٹ تقریر کریں گے اور اہم مالی دستاویزات اور بل ایوان میں پیش کریں گے، وہ آئندہ مالی سال کے لیے سالانہ مالیاتی گوشوارہ پیش کریں گے، جبکہ گزشتہ مالی سال 2025-26 کے لیے ضمنی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ پنجاب میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن پنجاب فنانس بل 2026 بھی متعارف کرائیں گے اور پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2012 کی دفعات 5 اور 76 میں ترامیم سے متعلق نوٹیفکیشنز ایوان میں پیش کریں گے، اس کے علاوہ وہ آنے والے مالی سال کے لیے مالیاتی خطرات سے متعلق بیان بھی پیش کریں گے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے وفاق کو مالیاتی رعایت دینے کے بعد اپنے ترقیاتی اخراجات کو محدود کیا ہے،  اس صورتحال کے باوجود حکومت ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھنا چاہتی ہے۔

پنجاب بجٹ کا حجم اور آمدن کے ذرائع

ذرائع کے مطابق پنجاب کا مجموعی بجٹ 5 ہزار 131 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے،  صوبے کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت قابل تقسیم محاصل سے 3 ہزار 793 ارب 70 کروڑ روپے ملنے کی توقع ہے، جبکہ صوبائی محصولات کی مد میں 1 ہزار 330 ارب روپے آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

دوسری جانب پنجاب حکومت وفاق کو اب تک 570 ارب روپے کی مالیاتی رعایت دے چکی ہے، جس کے باعث ترقیاتی بجٹ کا حصہ کم ہو کر 47 فیصد تک محدود رہ گیا ہے۔

سرکاری ملازمین کیلئے تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

پنجاب بجٹ میں وفاقی حکومت کی طرز پر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز زیر غور ہے،  بجٹ تخمینوں کے مطابق تنخواہوں کے لیے 650 ارب روپے جبکہ پنشن کی ادائیگی کے لیے 505 ارب 80 کروڑ روپے مختص کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود معاشی کارکردگی بہتر رہی ، وزیرِ خزانہ نے قومی اقتصادی سروے پیش کر دیا

اسی طرح پنجاب فنانس کمیشن کے لیے 800 ارب روپے رکھنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، جس سے مقامی حکومتوں اور ضلعی سطح کے ترقیاتی کاموں کو سہارا ملنے کی امید ہے۔

تعلیم اور نوجوانوں کیلئے منصوبے

تعلیم کا شعبہ اس سال بھی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے ، ذرائع کے مطابق تعلیم کے لیے 900 ارب روپے سے زائد مختص کیے جانے کا امکان ہے، طلبہ  کے لیے لیپ ٹاپ، الیکٹرک سکوٹیز اور سائیکل اسکیموں کو بھی بجٹ کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

مزید برآں ہونہار اسکالرشپ پروگرام کے لیے 20 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے ہزاروں مستحق اور ذہین طلبہ کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

صحت کے شعبے کو ریلیف

صحت کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 680 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے ، اس رقم میں مفت ادویات کی فراہمی کے لیے 100 ارب روپے شامل ہوں گے۔

علاوہ ازیں کینسر اور فالج جیسے مہنگے امراض میں مبتلا مریضوں کے علاج کے لیے خصوصی فنڈز رکھنے کی تجویز بھی دی گئی ہے ، اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو لاکھوں مریضوں کو مالی بوجھ سے نجات مل سکتی ہے۔

سماجی تحفظ اور فلاحی پروگراموں پر توجہ

پنجاب حکومت سماجی تحفظ کے شعبے پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ بجٹ میں سماجی تحفظ کے لیے 25 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، اسی  طرح ستھرا پنجاب پروگرام کیلئے 150 ارب روپے، رمضان پیکج کے لیے 35 ارب روپے اور مختلف سبسڈی پروگراموں کے لیے 80 ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز ہے۔

کسانوں، اقلیتوں اور خصوصی افراد کے لیے کیا ہے؟

بجٹ تجاویز میں کسان کارڈ پروگرام کے لیے 10 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہمت کارڈ اور اقلیتی کارڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

یونیورسٹی گرانٹس کے لیے 18 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے، جس سے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں جاری مالی مشکلات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل پر توجہ

وزیراعلیٰ پنجاب کے جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے 200 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ دیگر ترقیاتی اور سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے 570 ارب روپے اور بیرونی معاونت سے جاری منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور عوام کو بہتر بنیادی سہولیات میسر آئیں گی۔

عوام کو کیا توقع رکھنی چاہیے؟

پنجاب بجٹ میں حکومت کی بنیادی ترجیح ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، تعلیم اور صحت کے شعبوں کی بہتری اور سماجی تحفظ کے دائرہ کار کو وسیع کرنا ہے،  اگر مجوزہ اعلانات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو سرکاری ملازمین، طلبہ، کسانوں اور کم آمدنی والے خاندانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

 معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل کامیابی بجٹ کے اعلانات میں نہیں بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد میں ہوگا۔

editor

Related Articles