مراکش کے بزرگ کتاب فروش محمد عزیز اپنی غیرمعمولی مطالعہ پسندی اور علم سے محبت کے باعث دنیا بھر میں توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
محمد عزیز کا کہنا ہے کہ ’’میں 4 ہزار سے زیادہ کتابیں پڑھ چکا ہوں، اس لیے گویا میں 4 ہزار زندگیاں جی چکا ہوں۔ ہر انسان کو یہ موقع ملنا چاہیے۔‘‘
مراکش کے اس بزرگ کتاب فروش کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ روزانہ 6 سے 10 گھنٹے تک مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ صرف کھانے اور دن میں پانچ وقت کی نماز کے لیے وقفہ لیتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد عزیز اب تک عربی، فرانسیسی اور انگریزی زبانوں میں 5 ہزار سے زائد کتابیں مکمل کر چکے ہیں۔ علم اور مطالعے سے ان کی غیرمعمولی وابستگی نے انہیں اپنے علاقے میں ایک منفرد اور قابلِ احترام شخصیت بنا دیا ہے۔
محمد عزیز کی ایک اور بات لوگوں کو خاص طور پر متاثر کرتی ہے۔ وہ اپنی دکان کے باہر کتابیں بغیر نگرانی کے چھوڑ دیتے ہیں اور اس حوالے سے ان کا ایک دلچسپ فلسفہ ہے۔ان کا کہنا ہے، ’’جو لوگ پڑھ نہیں سکتے، وہ کتابیں نہیں چراتے، اور جو پڑھ سکتے ہیں، وہ چور نہیں ہوتے۔‘‘
سوشل میڈیا صارفین محمد عزیز کی علم دوستی، کتابوں سے محبت اور انسانوں پر اعتماد کے جذبے کو سراہ رہے ہیں۔ بہت سے افراد نے انہیں مطالعے کی اہمیت اور علم کے فروغ کی ایک زندہ مثال قرار دیا ہے۔
محمد عزیز کی کہانی ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ کتابیں صرف معلومات کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کو مختلف سوچوں، تجربات اور زندگیوں سے روشناس کرانے کا ایک منفرد وسیلہ بھی ہیں۔