معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر ایک ٹی وی پروگرام میں خواتین پر تیزاب حملوں سے متعلق دیے گئے اپنے بیان کے بعد شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین اور مختلف حلقوں کی جانب سے ان کے ریمارکس کو غیر مناسب قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات ایک حساس سماجی مسئلے کی سنگینی کو کم کرکے پیش کرتے ہیں۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کوئٹہ میں ایک لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے حالیہ واقعے نے ملک میں تیزاب گردی کے مسئلے پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ سماجی کارکنوں اور صارفین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات متاثرین کی زندگیوں پر گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑتے ہیں، اس لیے اس موضوع پر گفتگو میں احتیاط اور حساسیت ضروری ہے۔
ٹی وی پروگرام کے دوران خواتین کے حقوق اور تیزاب گردی کے متاثرین کے مسائل پر گفتگو جاری تھی کہ اسی دوران خلیل الرحمان قمر نے کہا، ایسا لگتا ہے جیسے مرد اپنی جیبوں میں تیزاب کی بوتلیں لے کر گھومتے ہیں۔
ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی، جہاں متعدد صارفین نے اسے متاثرین کے مسائل کو کم اہمیت دینے کے مترادف قرار دیا۔ بعض صارفین کا کہنا تھا کہ اس قسم کے تبصرے معاشرے میں آگاہی پیدا کرنے اور متاثرین کے لیے ہمدردی کے فروغ کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
دوسری جانب بعض افراد نے رائے دی کہ خلیل الرحمان قمر کے بیان کو مکمل سیاق و سباق کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے، تاہم مجموعی طور پر سوشل میڈیا پر اس معاملے پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔خلیل الرحمان قمر کی جانب سے تاحال اس تنقید پر کوئی باضابطہ وضاحت یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔