قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سوئٹزرلینڈ نے ریلوے ٹریکس کو شمسی توانائی کے حصول کے لیے استعمال کرنے کا کامیاب تجربہ شروع کر دیا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے گاؤں بٹس کے قریب فعال ریلوے لائن کے 100 میٹر طویل حصے پر 48 سولر پینلز نصب کیے گئے ہیں، جن کے اوپر سے ٹرینیں معمول کے مطابق گزر رہی ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے جس میں ریلوے ٹریکس کے درمیان موجود خالی جگہ کو بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ منصوبہ سوئس اسٹارٹ اپ Sun ways نے تیار کیا ہے۔ اگرچہ ابتدائی تنصیب محدود پیمانے پر کی گئی ہے، تاہم اس کی 18 کلو واٹ پیداواری صلاحیت سالانہ تقریباً 16 ہزار کلو واٹ گھنٹے بجلی فراہم کر سکتی ہے، جو کئی یورپی گھروں کی سالانہ ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ریلوے ٹریکس کے درمیان موجود جگہ عموماً بجری سے بھری غیر استعمال شدہ زمین ہوتی ہے۔ اس جگہ کو سولر پینلز کے لیے استعمال کرنا نہ صرف زمین کے بہتر استعمال کی مثال ہے بلکہ زرعی اراضی، جنگلات، صحراؤں یا پہاڑی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سولر منصوبے لگانے کے مقابلے میں نسبتاً کم خرچ متبادل بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
24 اپریل 2025 کو شروع ہونے والا یہ پائلٹ منصوبہ صرف سوئٹزرلینڈ ہی نہیں بلکہ دیگر یورپی ممالک کی توجہ بھی حاصل کر چکا ہے۔ سن ویز نے فرانس کے قومی ریلوے آپریٹرایس این سی ایف(SNCFـ) کے ساتھ تعاون کا معاہدہ بھی کیا ہے، جس کے تحت فرانسیسی ماہرین کو منصوبے کے تکنیکی نتائج، پیداواری اعداد و شمار اور آپریشنل تجربات تک رسائی حاصل ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ نظام مصروف ریلوے لائنوں پر محفوظ اور مؤثر ثابت ہوتا ہے تو مستقبل میں دنیا بھر میں ریلوے ٹریکس کو شمسی توانائی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے قابلِ تجدید توانائی کے حصول کا ایک نیا اور کم لاگت طریقہ سامنے آئے گا۔
سوئٹزرلینڈ میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور ماحولیاتی اہداف کے تناظر میں اس منصوبے کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ کامیاب نتائج کی صورت میں فرانس سمیت دیگر ممالک بھی اس ماڈل کو اپنانے پر غور کر سکتے ہیں۔