بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت ایک بار پھر اپوزیشن کے سخت سوالات کی زد میں آگئے ہیں۔
آپریشن سندور کی مبینہ ناکامی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پس پردہ ہونے والے مذاکرات کے معاملے پر اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نہ صرف عوام کو گمراہ کر رہی ہے بلکہ ملکی خودمختاری پر سوالیہ نشان بھی لگا رہی ہے۔
کانگریس کے سرکردہ رہنما راہول گاندھی نے بھارتی پارلیمان میں مودی سرکار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر مودی سچ بولتے تو صاف کہتے کہ امریکی صدر ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ لیکن مودی نے کچھ نہیں کہا، کیونکہ اگر بول دیا تو ٹرمپ کھل کر سچائی سامنے لے آئے گا‘۔
راہول گاندھی کے مطابق مودی کا ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش پر خاموش رہنا ’دال میں کچھ کالا‘ ہونے کا ثبوت ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر ملیکارجن کھڑگے نے بھی مودی سرکار پر شدید وار کرتے ہوئے کہا کہ ’مودی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ کہہ سکے ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ سچ سامنے آتے ہی ان کی پول کھل جائے گی‘۔
ملیکارجن کھڑگے نے سوال اٹھایا کہ بھارتی حکومت نے کیسے اور کیوں مانا کہ کوئی تیسرا فریق ’جیسا کہ امریکا، پاک بھارت تعلقات میں ثالثی کا کردار ادا کرے۔ عوام کو بتایا جائے کہ امریکا کو درمیان میں لانے کے پیچھے کون سی کمزوری یا دباؤ کارفرما تھا۔؟
ملیکارجن کھڑگے نے مودی کی 2 گھنٹے طویل تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے تنقید کی کہ ’ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں ٹرمپ کا نام تک نہیں لیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کچھ چھپا رہی ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت کے جھوٹ اور خاموشی سے نہ صرف ملک کا تشخص متاثر ہو رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی خودمختاری پر سوالات اٹھ رہے ہیں‘۔
’مودی سرکار روز ایک نئے جھوٹ کے ساتھ آتی ہے اور اس کی ناکامی کی داستان میں روز ایک نیا باب جڑتا جا رہا ہے‘۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی مواقعوں پر یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے پاک بھارت کشیدگی میں ثالثی کی پیشکش کی تھی اور بھارت کی جانب سے اس میں دلچسپی ظاہر کی گئی تھی۔ اس دعوے پر نہ صرف بھارت میں سیاسی طوفان اٹھا بلکہ عالمی سطح پر بھی کئی حلقے حیران رہ گئے۔
مودی سرکار اس وقت ’آپریشن سندور‘ کی شفافیت، امریکی ثالثی پر مؤقف اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے سوالات پر بری طرح گھری ہوئی ہے، جبکہ اپوزیشن نے ایک مرتبہ پھر اسے پارلیمانی احتساب اور عوامی عدالت میں گھسیٹنے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ سوال اب بھارتی عوام کے ذہنوں میں گونج رہا ہے کہ کیا مودی حکومت سچائی کا سامنا کرنے کو تیار ہے، یا خاموشی ہی ان کی واحد حکمتِ عملی رہ گئی ہے؟