بھارتی فوج نے اگست میں اسپیتی ویلی میں ایک بڑا ڈرون مقابلہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے ’آتم نربھر بھارت‘ یعنی خود انحصاری کے قومی منصوبے کے تحت پیش کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی ڈرون مقابلہ محض ایک دفاعی مشق نہیں بلکہ مودی سرکار کے جنگی عزائم کا مظہر ہے جو خطے کے امن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
دی ٹریبون انڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ مقابلہ 3 کیٹیگریز، ان ہاؤس ڈرونز، اوپن کیٹیگری اور ’او ای ایمیز‘ میں منعقد ہوگا۔ 2 مراحل پر مشتمل اس ایونٹ کا پہلا مرحلہ 10 سے 15 اگست اور دوسرا مرحلہ 20 سے 24 اگست تک جاری رہے گا۔ ڈرون ساز اداروں کو 10,700 فٹ کی بلندی پر قدرتی رکاوٹوں کے اوپر اپنے ڈرونز کی کارکردگی کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا۔
اہم بات یہ ہے کہ مقابلے میں حصہ لینے والے ڈرون ساز اداروں کو چینی پرزے استعمال کرنے کی اجازت نہیں، جو بھارت اور چین کے مابین جاری کشیدگی اور ’آتم نربھر بھارت‘ پالیسی کی سیاسی نوعیت کو مزید واضح کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مقابلے کا مقصد ہائی ایلٹیٹیوڈ (بلند مقامات پر) جنگی حالات میں بالخصوص آپریشن سندور کے بعد کے منظرنامے میں’ڈرون ٹیکنالوجی‘ کی مؤثر صلاحیتوں کو جانچنا ہے۔
سینٹرل کمانڈ کو ہماچل اور اتراکھنڈ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جبکہ ڈرون فیڈریشن آف انڈیا بھی اس ایونٹ میں شراکت دار ہے۔
تاہم، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت فوج کو ایک اشتہاری مہم کا حصہ بنا کر قومی اداروں کو سیاسی ہتھیار میں تبدیل کر رہی ہے۔
’ملک کے مفاد‘ کے نام پر دفاعی سرمایہ کاری میں اضافہ، عوامی فلاح کے بجٹ کو پیچھے دھکیل رہا ہے۔ اندرون ملک سیاسی بحرانوں کے باوجود مودی حکومت اپنی پالیسیوں کے ذریعے پڑوسی ممالک کے لیے اشتعال انگیز ماحول پیدا کر رہی ہے۔
حالیہ برسوں میں بھارت کی ’خود کفالت‘ کی مہم درحقیقت ایک عسکری خود انحصاری کی شکل اختیار کر چکی ہے، جو جنوبی ایشیا میں اسلحہ کی دوڑ اور خطے میں عدم استحکام کو بڑھاوا دے سکتی ہے۔
اپوزیشن اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ مودی راج میں قومی سلامتی کو سیاسی فوائد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور یہ روش جمہوری اقدار، شفافیت اور علاقائی امن کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔
یہ سوال آج نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطے میں گونج رہا ہے کہ کیا ’آتم نربھر بھارت‘ کا اصل چہرہ ’جنگی بھارت‘ ہے؟