اب تیسری باردانت اگانا ممکن؟ جاپان میں انقلابی دوا کے انسانی ٹرائلز شروع

اب تیسری باردانت اگانا ممکن؟ جاپان میں انقلابی دوا کے انسانی ٹرائلز شروع

جاپان میں انقلابی دوا کے انسانی ٹرائلز شروعنوں نے ایک ایسی حیران کن دوا پر انسانی آزمائش کا آغاز کر دیا ہے جو مستقبل میں انسانوں کو تیسری بار قدرتی دانت اگانے کے قابل بنا سکتی ہے۔

یہ تحقیق ڈاکٹر کاتسو تاکاہاشی کی سربراہی میں اوساکا کے کیوٹو یونیورسٹی اسپتال میں کی جا رہی ہے، جس میں 30 سے 64 سال کی عمر کے 30 ایسے مرد شامل ہیں جن کے ایک یا زیادہ دانت غائب ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں اس دوا کی حفاظت کو جانچا جا رہا ہے، تاہم اگر اس دوران دانت دوبارہ اگنے لگے تو یہ ایک بڑی طبی کامیابی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں :جاپانی سائنسدانوں کا دعویٰ، اب خواب بھی ویڈیو کی طرح دیکھے جا سکیں گے

ماہرین کے مطابق انسانی جسم میں ایک پروٹین یو ایس اے جی(USAG-1) موجود ہوتا ہے جو دانتوں کی نشوونما کو روک دیتا ہے۔ نئی دوا اسی پروٹین کو بلاک کرتی ہے، جس سے وہ’سوئے ہوئے‘ دانتوں کے بیج دوبارہ فعال ہو سکتے ہیں اور نئے دانت اگنے کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنسدان اس طریقہ کار کو پہلے ہی چوہوں اور دیگر جانوروں پر آزما چکے ہیں جہاں کامیابی کے ساتھ دانت دوبارہ اگ آئے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا انسانوں میں بھی یہی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں :قدیم کیکڑے کا پنجہ قیمتی اوپل پتھر میں تبدیل، قدرت کا حیران کن کرشمہ

یہ پیش رفت خاص طور پر ان بچوں کے لیے امید کی کرن ہے جو پیدائشی طور پر مکمل دانتوں کے بغیر پیدا ہوتے ہیں۔ یہ مسئلہ اگرچہ کم لوگوں میں پایا جاتا ہے، مگر متاثرہ بچوں کے لیے کھانے اور اعتماد کے مسائل پیدا کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تحقیق کامیاب رہی تو 2030 تک یہ علاج عام افراد کے لیے دستیاب ہو سکتا ہے، جس کے بعد مصنوعی دانت یا امپلانٹس کے بجائے قدرتی دانت دوبارہ اگانا ممکن ہو جائے گا۔

یہ تحقیق دانتوں کے علاج کے شعبے میں ایک انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے، جہاں ہزاروں سال سے جاری یہ تصور کہ دانت ایک بار گر جائیں تو واپس نہیں آ سکتے، شاید اب بدلنے والا ہے۔

editor

Related Articles