جنوبی افریقہ میں ہولناک واقعہ، 15 فٹ مگرمچھ کے پیٹ سے انسانی باقیات برآمد

جنوبی افریقہ میں ہولناک واقعہ، 15 فٹ مگرمچھ کے پیٹ سے انسانی باقیات برآمد

جنوبی افریقہ میں ایک افسوسناک اور سنسنی خیز واقعے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں ایک ہوٹل مالک کو 15 فٹ لمبے مگرمچھ کے حملے میں ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق بھاری بارشوں اور سیلابی صورتحال کے دوران 59 سالہ بزنس مین گیبریل بٹسٹا اپنی گاڑی کے ساتھ دریائے کمیاتی کو عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کی گاڑی پانی کے ریلے میں پھنس گئی۔ چند لمحوں میں وہ تیز بہاؤ میں بہہ گئے۔

یہ بھی پڑھیں :دنیا کا سب سے چھوٹا ہینڈ بیگ، قیمت 1 کروڑ 78 لاکھ روپے سے زائد

لاپتہ ہونے کے بعد پولیس نے ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے چار دن تک سرچ آپریشن جاری رکھا۔ دورانِ تلاش دریا کے ایک چھوٹے جزیرے پر ایک بڑا مگرمچھ دیکھا گیا جس کا پیٹ غیر معمولی طور پر پھولا ہوا تھا۔

پولیس کے مطابق اس مگرمچھ کو بعد میں ایک ہیلی کاپٹر سے نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا اور اسے قریبی علاقے میں منتقل کیا گیا جہاں پوسٹ مارٹم کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں :شینیل کا حیران کن ’غائب جوتا ڈیزائن، فیشن کی دنیا میں نئی بحث چھڑ گئ

حیران کن طور پر مگرمچھ کے پیٹ سے انسانی باقیات، جن میں بازوؤں کے حصے، پسلیاں اور گوشت کے ٹکڑے شامل تھے، برآمد ہوئے۔ اس کے علاوہ ایک انگوٹھی بھی ملی جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ لاپتہ شخص کی ہو سکتی ہے۔

مزید یہ کہ مگرمچھ کے معدے سے مختلف اقسام کے جوتے بھی ملے، جس پر حکام نے کہا کہ اس سے قبل بھی حملوں کا امکان ظاہر کیا جا سکتا ہے، تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ مگرمچھ نے مختلف مواقع پر مختلف چیزیں کھائی ہوں۔

یہ بھی پڑھیں :نیلی وہیل کا حیران کن منہ، ایک ساتھ 100 انسان بھی سما سکتے ہیں

پولیس حکام کے مطابق ابھی ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے حتمی تصدیق کی جائے گی کہ یہ باقیات واقعی لاپتہ بزنس مین کی ہیں یا نہیں۔ اس وقت تک کچھ بھی حتمی نہیں کہا جا سکتا۔متاثرہ شخص مقامی ہوٹل اور بار کا مالک تھا اور اپنے کام کے سلسلے میں اسی علاقے میں جا رہا تھا جب یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔

ماہرین کے مطابق نیل مگرمچھ دنیا کے خطرناک ترین جانوروں میں سے ایک ہے جو 20 فٹ تک لمبا اور 680 کلوگرام سے زائد وزنی ہو سکتا ہے۔ یہ ہر سال دنیا بھر میں سینکڑوں انسانی ہلاکتوں کا سبب بنتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں دریا اور جنگلی علاقے قریب ہوتے ہیں۔

editor

Related Articles