ماہرین فلکیات نے خلا میں ایسے کئی سیاروں کی نشاندہی کی ہے جو مکمل طور پر پانی سے بھرے ہو سکتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم امیدوار زمین سے تقریباً 100 نوری سال کے فاصلے پر موجود ایک سیارہ ہے۔
یہ سیارہ TOI 1452 b کہلاتا ہے۔ یہ ایک سپر ارتھ ہے جو ہماری زمین سے تقریباً 1.7 گنا بڑا اور تقریباً پانچ گنا زیادہ وزنی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس کی کثافت کسی ٹھوس چٹانی سیارے کے مقابلے میں بہت کم ہے، جس سے سائنسدانوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر پانی کی بڑی مقدار موجود ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس سیارے کے مجموعی کمیت کا تقریباً 20 سے 30 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہو سکتا ہے، جبکہ زمین پر پانی کی مقدار ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
زمین پر سمندروں کی اوسط گہرائی تقریباً 3.7 کلومیٹر ہے، لیکن اگر کوئی مکمل اوشن ورلڈ ہو تو اس کے سمندر سینکڑوں کلومیٹر تک گہرے ہو سکتے ہیں، اس کے بعد ہی کسی ٹھوس سطح کا آغاز ہوتا ہے۔
ایسی گہرائی میں پانی عام حالت میں موجود نہیں رہتا۔ شدید دباؤ اور درجہ حرارت کے باعث یہ پانی مختلف غیر معمولی حالتوں میں تبدیل ہو جاتا ہے، جیسے سپر کریٹیکل پانی یا ہائی پریشر آئس۔ یہ ایسی حالتیں ہیں جو زمین پر قدرتی طور پر موجود نہیں ہیں۔
ایک اور ممکنہ سیارہ LHS 1140 b ہے جو زمین سے تقریباً 48 نوری سال دور ہے۔ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی مشاہدات کے مطابق یہ گیس کا بڑا گولہ نہیں بلکہ ایک ٹھوس سپر ارتھ ہے، جس کی ساخت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس پر وسیع مائع پانی کا سمندر موجود ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے زندگی کے امکانات والے سیاروں میں ایک مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔
ایسے سیاروں پر نہ زمین ہوگی، نہ براعظم اور نہ ساحل۔ صرف ایک بے حد گہرا سمندر ہوگا جو نیچے جاتے ہوئے ایسی حالتوں میں بدل جائے گا جنہیں انسان نے کبھی زمین پر نہیں دیکھا۔
ماہرین کے مطابق اگر کہیں زندگی موجود ہوئی تو وہ ہماری دنیا سے بالکل مختلف ہوگی، جہاں آسمان، زمین اور مٹی کا کوئی تصور نہیں ہوگا، صرف پانی ہی پانی ہوگا۔