پی ٹی آئی کا ملک گیر احتجاج، دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر 6 ایم پی ایز، 300 سے زیادہ کارکنان گرفتار

پی ٹی آئی کا ملک گیر احتجاج، دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر 6 ایم پی ایز، 300 سے زیادہ کارکنان گرفتار

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی گرفتاری کے دو سال مکمل ہونے پر منگل کو ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔

پنجاب میں نافذ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر حکومت کی جانب سے سخت کریک ڈاؤن شروع کرتے ہوئے لاہور میں 6 سے زیادہ اراکین پنجاب اسمبلی کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ 300 سے زیادہ کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر اڈیالہ جیل کے اطراف سیکورٹی بڑھانے کا فیصلہ

ملک بھر میں پی ٹی آئی کارکن متحرک ہو گئے ہیں اور لاہور، اوکاڑہ، مہمند اور شیخوپورہ سمیت کئی علاقوں میں ریلیاں، جلوس اور احتجاجی مظاہرے کرنے کی کوشش کی گئی، ملک کے بیشتر علاقوں کے عوام نے پاکستان تحریک انصاف کی احتجاجی کال مسترد کرتے ہوئے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

اسلام آباد سے آزاد ڈیجیٹل کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق معمولات زندگی رواں دواں ہیں، یہاں کوئی احتجاج یا ہڑتال نہیں ہے، ڈی چوک سمیت اسلام آباد کے تمام داخلی اور خارجی راستے کھلے ہوئے ہیں۔  ادھر انتظامیہ تمام حفاظتی اقدامات کر رکھے ہیں، پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، یہاں پولیس نے قیدی وین بھی پہنچا دی ہے۔

ادھر پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے لیے تیار کیا گیا کنٹینر بجلی کی 11 ہزار لائن سے ٹکرا گیا۔ رنگ روڈ جمیل چوک اور ملحقہ علاقوں میں بجلی بند ہوگئی، کرنٹ لگنے سے کنٹینرکا ٹائر پھٹ گیا اور ڈرائیور بال بال حادثے سے بچ گیا۔

لاہور میں شاکر بسرا کی قیادت میں بڑی ریلی نکالی گئی، جہاں مظاہرین نے پارٹی جھنڈے تھامے ہوئے عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی۔ اوکاڑہ میں مہر عبد الستار نے موٹر سائیکل ریلی کی قیادت کی جبکہ شیخوپورہ میں ایم پی اے وقاص محمود مان نے کسانوں کے ہمراہ مظاہرہ کیا۔

تحریکِ انصاف کی انصاف یوتھ ونگ نے مہمند سے ابتدائی ریلی کا آغاز کیا، جو احتجاجی مہم کی عوامی سطح پر مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی احتجاج: 26 نومبر کے 278 ورکرز کی ضمانتیں منظور، 158 کی مسترد

پی ٹی آئی پنجاب ونگ نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے سابق رکن قومی اسمبلی عالیہ حمزہ ملک کی گاڑی پر دھاوا بولا جس سے گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے ۔ سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے الزام لگایا ہے کہ لاہور میں پارٹی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیے گئے۔

گرفتار ہونے والوں میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈرمعین قریشی، ایم پی ایز فاروق جاوید مون، کرنل (ر) شعیب، ندیم صادق ڈوگر، خواجہ صلاح الدین، امین اللہ خان اور اقبال خٹک شامل ہیں۔

پنجاب کے آئی جی ڈاکٹرعثمان انور نے پولیس کے کردار کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’فورس کو برا نہ کہیں، وردی والے آپ کی حفاظت کے لیے رات بھر جاگتے ہیں‘۔

پی ٹی آئی لاہور کے صدر امتیاز شیخ نے کہا ہے کہ شہر بھر میں مظاہروں کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور ایک مرکزی احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جائے گا، تاہم رکاوٹ کی صورت میں متبادل حکمت عملی بھی تیار کی گئی ہے۔

جہلم کے عوام نے احتجاجی کال مسترد کردی

ادھر جہلم سے آزاد ڈیجیٹل کے نمائندے کےمطابق جہلم کے عوام نے پاکستان تحریک انصاف کی کال کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ مقامی قیادت کا بھی کہنا ہے کہ ہمیں کوئی لائحہ عمل نہیں دیا گیا، اس حوالے کسی ریلی یا احتجاج کے حوالے سے پی ٹی آئی کے کارکن لاعلم ہیں۔

راولپنڈی میں خاص طور پر اڈیالہ جیل کے ارد گرد سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ فسادات سے نمٹنے والے خصوصی یونٹس تعینات کر دیے گئے ہیں اور دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ سٹی پولیس افسر کے مطابق شہر بھر میں 4000 سے زیادہ اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں اور کسی کو بھی قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ادھر خیبر پختونخوا میں بھی پاکستان تحریک انصاف کی احتجاج کی کال پر عوام نے خاطر خواہ ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، تاہم پی ٹی آئی کے کارکنوں نے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں چھوٹی چھوٹی ریلیاں نکالی ہیں۔

دریں اثنا خیبر پختونخوا کے تحصیل ٹل سے ایک احتجاجی قافلہ ہنگو کی طرف روانہ ہو چکا ہے، جو شمالی علاقوں میں بھی تحریک کے پھیلاؤ کی علامت ہے۔

اڈیالہ جیل کی طرف مارچ، پی ٹی آئی احتجاج ماند پڑ گیا

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان کے مطابق، پارٹی رہنماء محمود اچکزئی، سینئر وکیل سلمان اکرم راجہ سمیت کئی پارلیمنٹرینز کی قیادت میں قافلہ اڈیالہ جیل کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج آئینی حق ہے اور ہر صورت ریکارڈ کرایا جائے گا۔

دوسری طرف تحریک انصاف کے جانب سے دیے گئے 5 اگست کی احتجاج کی کال پر ڈی چوک اسلام آباد میں صورتحال خاصی مختلف رہی۔ روایتی طور پر احتجاج کا مرکز سمجھے جانے والے ڈی چوک پر نہ کارکنان نظر آئے نہ قیادت۔ اطلاعات کے مطابق، اس بار نہ صرف قیادت کنفیوژ دکھائی دی بلکہ کارکنان کی شرکت بھی انتہائی محدود رہی۔

ہم اڈیالہ معمول کی ملاقات کے لیے آئے تھے، علیمہ خان

عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے گورکھپور ناکے کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ حسب معمول ملاقات کے لیے آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لاہور سے روانہ ہوئیں، کسی نے نہیں روکا لیکن چکری اور گورکھپور کے مقامات پر انہیں روکا گیا۔ علیمہ خان نے تصدیق کی کہ 5 اگست کا احتجاج عمران خان کی ہدایت پر کیا جا رہا ہے اور ہم وہی پیغام دیتے ہیں جو خان صاحب کا ہوتا ہے۔

گورکھپور ناکے پر موجود وکیل رہنما شمسہ کیانی نے بتایا کہ وہ ساڑھے گیارہ بجے پہنچ گئیں مگر پولیس نے روک لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہائی کورٹ کے حکم کے تحت ملاقات کے لیے آئی ہیں اور مزید ممبران اسمبلی اسلام آباد سے روانہ ہو چکے ہیں۔

ادھر انجمن تاجران کوچہ بازار کے صدر اور ملگری تاجران کے چیئرمین صدر گل نے احتجاج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا پر رشوت خور اور ڈاکو مسلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 12 سال سے جاری احتجاج نے عوام سے روزگار چھین لیا ہے، اور ایک دن کے احتجاج سے تاجر کو چھ ماہ کا نقصان ہوتا ہے۔

بار بار کے احتجاج سے تاجر برادری کا بہت نقصان ہو رہا ہے، عبدالجلیل

سرحد چیمبر آف کامرس کے سینئر نائب صدر اور جے یو آئی رہنما عبدالجلیل جان نے بھی احتجاج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے مسلسل احتجاج سے کاروباری طبقہ بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ ان کے مطابق، صوبائی حکومت خود حکومت میں ہونے کے باوجود احتجاج کر رہی ہے، جو غیر منطقی ہے۔

اس بار پی ٹی آئی کی ٹوپیاں کوئی نہیں خرید رہا

پشاور میں بھی پی ٹی آئی کے کارکنان احتجاج کرتے ہوئے پنڈورہ چنگی تک پہنچے مگر وہاں پہنچ کر منتشر ہوگئے۔ احتجاج میں شرکت کرنے والے زیادہ تر نوجوان آئی ایس ایف (انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن) سے تعلق رکھتے تھے۔ جھنڈے، ٹوپیاں اور دیگر پی ٹی آئی کی مصنوعات بیچنے والے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اس بار کارکنان کچھ خرید نہیں رہے، جس سے وہ سخت پریشان ہیں۔

ادھر اطلاعات کے مطابق، سینیٹر ڈاکٹر ہمایوں کو بھی پولیس نے داہگل کے مقام پر روک لیا ہے، جبکہ راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے اطراف سخت سیکیورٹی کے ساتھ پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *