پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی گرفتاری کے دو سال مکمل ہونے پر منگل کو ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔
پنجاب میں نافذ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر حکومت کی جانب سے سخت کریک ڈاؤن شروع کرتے ہوئے لاہور میں 6 سے زیادہ اراکین پنجاب اسمبلی کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ 300 سے زیادہ کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر اڈیالہ جیل کے اطراف سیکورٹی بڑھانے کا فیصلہ
ملک بھر میں پی ٹی آئی کارکن متحرک ہو گئے ہیں اور لاہور، اوکاڑہ، مہمند اور شیخوپورہ سمیت کئی علاقوں میں ریلیاں، جلوس اور احتجاجی مظاہرے کرنے کی کوشش کی گئی، ملک کے بیشتر علاقوں کے عوام نے پاکستان تحریک انصاف کی احتجاجی کال مسترد کرتے ہوئے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد سے آزاد ڈیجیٹل کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق معمولات زندگی رواں دواں ہیں، یہاں کوئی احتجاج یا ہڑتال نہیں ہے، ڈی چوک سمیت اسلام آباد کے تمام داخلی اور خارجی راستے کھلے ہوئے ہیں۔ ادھر انتظامیہ تمام حفاظتی اقدامات کر رکھے ہیں، پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، یہاں پولیس نے قیدی وین بھی پہنچا دی ہے۔
🚨🚨🚨تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک کا اعلان ڈی چوک پر پولیس کی بھاری نفری تعینات۔۔ کوئی بھی کارکن ڈی چوک نہ پہنچ سکا۔۔ ممبران اسمبلی تاحال قومی اسمبلی اجلاس میں براجمان۔۔ تازہ ترین صورتحال بتا رہے ہیں نما ئندہ آزاد ڈیجیٹل شاہد قریشی@ShahidQurashii pic.twitter.com/HL2ZHB3caE
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) August 5, 2025
ادھر پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے لیے تیار کیا گیا کنٹینر بجلی کی 11 ہزار لائن سے ٹکرا گیا۔ رنگ روڈ جمیل چوک اور ملحقہ علاقوں میں بجلی بند ہوگئی، کرنٹ لگنے سے کنٹینرکا ٹائر پھٹ گیا اور ڈرائیور بال بال حادثے سے بچ گیا۔
🚨🚨پی ٹی آئی احتجاج کے لئے تیار کیا گیا کنٹینر بجلی کی 11 ہزار لائن سے ٹکرا گیا۔ رنگ روڈ جمیل چوک اور ملحقہ علاقوں میں بجلی بند ہوگئی ۔ کنٹینر ڈرائیور بال بال حادثے سے بچ گیا۔۔۔ pic.twitter.com/rPdhzrqnDS
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) August 5, 2025
لاہور میں شاکر بسرا کی قیادت میں بڑی ریلی نکالی گئی، جہاں مظاہرین نے پارٹی جھنڈے تھامے ہوئے عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی۔ اوکاڑہ میں مہر عبد الستار نے موٹر سائیکل ریلی کی قیادت کی جبکہ شیخوپورہ میں ایم پی اے وقاص محمود مان نے کسانوں کے ہمراہ مظاہرہ کیا۔
تحریکِ انصاف کی انصاف یوتھ ونگ نے مہمند سے ابتدائی ریلی کا آغاز کیا، جو احتجاجی مہم کی عوامی سطح پر مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔
مزید پڑھیں:پی ٹی آئی احتجاج: 26 نومبر کے 278 ورکرز کی ضمانتیں منظور، 158 کی مسترد
پی ٹی آئی پنجاب ونگ نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے سابق رکن قومی اسمبلی عالیہ حمزہ ملک کی گاڑی پر دھاوا بولا جس سے گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے ۔ سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے الزام لگایا ہے کہ لاہور میں پارٹی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیے گئے۔
گرفتار ہونے والوں میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈرمعین قریشی، ایم پی ایز فاروق جاوید مون، کرنل (ر) شعیب، ندیم صادق ڈوگر، خواجہ صلاح الدین، امین اللہ خان اور اقبال خٹک شامل ہیں۔
پنجاب کے آئی جی ڈاکٹرعثمان انور نے پولیس کے کردار کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’فورس کو برا نہ کہیں، وردی والے آپ کی حفاظت کے لیے رات بھر جاگتے ہیں‘۔
پی ٹی آئی لاہور کے صدر امتیاز شیخ نے کہا ہے کہ شہر بھر میں مظاہروں کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور ایک مرکزی احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جائے گا، تاہم رکاوٹ کی صورت میں متبادل حکمت عملی بھی تیار کی گئی ہے۔
جہلم کے عوام نے احتجاجی کال مسترد کردی
ادھر جہلم سے آزاد ڈیجیٹل کے نمائندے کےمطابق جہلم کے عوام نے پاکستان تحریک انصاف کی کال کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ مقامی قیادت کا بھی کہنا ہے کہ ہمیں کوئی لائحہ عمل نہیں دیا گیا، اس حوالے کسی ریلی یا احتجاج کے حوالے سے پی ٹی آئی کے کارکن لاعلم ہیں۔
راولپنڈی میں خاص طور پر اڈیالہ جیل کے ارد گرد سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ فسادات سے نمٹنے والے خصوصی یونٹس تعینات کر دیے گئے ہیں اور دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ سٹی پولیس افسر کے مطابق شہر بھر میں 4000 سے زیادہ اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں اور کسی کو بھی قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
🚨🚨🚨تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک کا اعلان ڈی چوک پر پولیس کی بھاری نفری تعینات۔۔ کوئی بھی کارکن ڈی چوک نہ پہنچ سکا۔۔ ممبران اسمبلی تاحال قومی اسمبلی اجلاس میں براجمان۔۔ تازہ ترین صورتحال بتا رہے ہیں نما ئندہ آزاد ڈیجیٹل شاہد قریشی@ShahidQurashii pic.twitter.com/HL2ZHB3caE
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) August 5, 2025