پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے 5 اگست کو ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے۔ احتجاج کی کال کے پیش نظر ملک بھر، خصوصاً پنجاب اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
پنجاب حکومت نے ممکنہ افراتفری اور کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت ہر قسم کے عوامی اجتماع، جلسے جلوس اور مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اسلام آباد پولیس نے بھی پی ٹی آئی کے احتجاجی پلان کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات انتہائی سخت کر دیے ہیں۔ داخلی و خارجی راستوں پر ناکے لگا دیے گئے ہیں جبکہ اہم تنصیبات، سرکاری عمارتوں اور حساس مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
ادھر رات گئے اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شہرام خان ترکئی کی گرفتاری کے لیے پیر کی رات ان کے گھروں پر چھاپے مارے۔ تاہم دونوں رہنما اپنے گھروں پر موجود نہ تھے۔ پولیس نے کارروائی کے دوران وہاں سے 2 گاڑیاں اور 3 سیکیورٹی گارڈز کو حراست میں لے لیا۔
پی ٹی آئی قیادت نے ان چھاپوں کی مذمت کی ہے اور گرفتار کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جبکہ پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ دارلحکومت کا امن خراب کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی، شہریوں کو چاہیے کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔