خیبر پختونخوا کے ضلع کرک اور پشاور شہر میں فائرنگ کے 2 الگ الگ واقعات میں 4 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 7 افراد شہید ہوگئے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق بدھ کو پہلا واقعہ کرک کے علاقے گراگری میں پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کی گاڑی پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ڈرائیور سمیت 4 جوان شہید ہوگئے۔ واقعے کی صوبائی حکام کی جانب سے شدید مذمت کی گئی، جب کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعلیٰ کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’ ہم اُن سیکیورٹی جوانوں اور ان کے اہل خانہ کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ملک و قوم کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا‘۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
دوسرے واقعے میں منگل کی شب پشاور کے ورسک روڈ پر فائرنگ کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں پولیس انسپکٹر علی حسین بھی شامل تھے۔
سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز مسعود احمد کے مطابق انسپکٹر علی حسین اپنے 2 دوستوں کے ہمراہ گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ 2 موٹرسائیکلوں پر سوار 4 حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی، جس سے تینوں موقع پر شہید ہوگئے۔
ایس ایس پی کے مطابق ’حملے میں پستول اور سب مشین گن (ایس ایم جی) استعمال کی گئی۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور جیو فینسنگ کا عمل بھی مکمل کیا جا رہا ہے‘۔
گورنر کنڈی نے اس واقعے کو ’افسوسناک اور غیر انسانی‘ قرار دیتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب نومبر 2022 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم ہونے کے بعد سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
گزشتہ ماہ بھی کرک کے کوہِ میدان علاقے میں ایک پولیس اہلکار شہید ہوا تھا جب کہ حملہ آور پہاڑی علاقوں کی جانب فرار ہو گئے تھے۔
دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ صوبہ ایک بار پھر دہشت گردی کی نئی لہر کی لپیٹ میں ہے، جس کا ہدف سیکیورٹی ادارے اور عام شہری بن رہے ہیں۔