سوات کے علاقے بابوزئی میں زمرد کی ایک کان کے بیٹھ جانے سے پھنسنے والے 4 مزدوروں کو پاک فوج اور ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے کامیاب کارروائی کے بعد بحفاظت نکال لیا۔
بدھ کی شام یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب کان کا ایک حصہ نکاسی کے دوران اچانک منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں مزدور تقریباً 900 فٹ زیر زمین پھنس گئے تھے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو آپریشن کئی گھنٹوں تک جاری رہا، جس میں 40 سے زیادہ اہلکاروں نے حصہ لیا۔ آپریشن کی قیادت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر سوات، رفیع اللہ مروت نے کی۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فئیزی کے مطابق ’جدید آلات اور تربیت یافتہ عملے کی بدولت یہ مشکل ریسکیو مشن کامیابی سے مکمل ہوا‘۔میڈیکل ٹیموں نے فوری طور پر مزدوروں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی، جن کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
ریسکیو کیے گئے مزدوروں اور مقامی عوام نے پاک فوج اور امدادی اداروں کا شکریہ ادا کیا اور ’پاک فوج زندہ باد‘ اور ’پاکستان پائندہ باد‘کے نعرے لگائے۔
سوات میں کان کنی کا شعبہ طویل عرصے سے ناقص حفاظتی اقدامات کے باعث تنقید کی زد میں رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کان کنی کے شعبے میں جامع اصلاحات اور مؤثر ضوابط کا نفاذ ناگزیر ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ نومبر میں بھی اسی علاقے میں ایک زمرد کی کان میں لفٹ کی رسی ٹوٹنے کے باعث دو مزدور جاں بحق ہو گئے تھے، جس کے بعد سے سیکیورٹی اقدامات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
جمعرات کو ہونے والی اس کامیاب ریسکیو کارروائی نے اگرچہ جانیں بچا لیں، لیکن یہ واقعہ کان کنی کے شعبے میں حفاظتی نظام کو بہتر بنانے کی فوری ضرورت کی جانب ایک اور وارننگ ہے۔