امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معروف قدامت پسند مبصر اور محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس کو اقوام متحدہ میں امریکہ کی نائب نمائندہ کے طور پر نامزد کر دیا ہے۔ اس کا باقاعدہ اعلان ہفتہ کے روز ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کیا گیا۔
62 سالہ ٹیمی بروس اس وقت ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ میں محکمہ خارجہ کی ترجمان کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ان کی تقرری اقوام متحدہ میں امریکا کی سفارتی موجودگی کو مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ ’ ٹیمی بروس ایک جرات مند آواز اور امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم رہنما ہیں‘۔
ٹیمی بروس نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز ایک لبرل کارکن کے طور پر کیا، لیکن بعد میں وہ ایک نمایاں قدامت پسند بن گئیں۔ وہ 1990 سے 1996 تک نیشنل آرگنائزیشن فار ویمن (این او ڈبلیو) کے لاس اینجلس چیپٹر کی صدر رہیں اور اس وقت وہ کسی بڑے چیپٹر کی قیادت کرنے والی سب سے کم عمر خاتون تھیں۔ بعد میں انہوں نے لبرل ازم سے اختلاف کرتے ہوئے اس دنیا کو منافقت، تعصب اور عدم برداشت کا حامل قرار دیا اور قدامت پسند نظریات کو اپنا لیا۔
ٹیمی بروس فاکس نیوز کی باقاعدہ تجزیہ کار رہ چکی ہیں اور انہوں نے گیٹ ٹیمی بروس کے نام سے فاکس نیشن پر ایک شو بھی ہوسٹ کیا۔ وہ میڈیا پروڈکشن اور پبلک ریلیشنز کے شعبے میں بھی کام کر چکی ہیں۔ اداکاری کے میدان میں بھی انہوں نے قدم رکھا اور 2009 کی مختصر فلم 2081 اور 2011 کی ڈاکیومنٹری دی انڈیفیٹڈ میں نظر آئیں۔
اگرچہ وہ موجودہ انتظامیہ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، لیکن جون 2025 میں ان کے ایک بیان نے ’امریکا فرسٹ‘ حامیوں میں تنازع پیدا کر دیا، جب انہوں نے کہا کہ ’امریکا اسرائیل کے بعد زمین پر سب سے عظیم ملک ہے‘۔اس بیان پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ٹیمی بروس کی یہ نامزدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ بین الاقوامی اداروں میں امریکی اثر و رسوخ کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے جارحانہ خارجہ پالیسی پر گامزن ہے۔ ان کی تقرری کی توثیق کے لیے سینیٹ میں سماعت آئندہ ہفتوں میں متوقع ہے۔
اگر ان کی تقرری کی منظوری ہو جاتی ہے تو وہ اقوام متحدہ میں امریکہ کے مستقل نمائندے رچرڈ گرینل کے ساتھ مل کر بین الاقوامی امور جیسے انسانی حقوق اور عالمی سلامتی پر امریکی مؤقف کو پیش کریں گی۔