روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے اشارہ دیا ہے کہ یوکرین تنازع اب اپنے منطقی انجام کی جانب بڑھ رہا ہے اور جنگ کے خاتمے کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ماسکو میں گفتگو کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے کہا کہ ان کے خیال میں یوکرین تنازع ایک نتیجے کی طرف بڑھ رہا ہے جبکہ مذاکرات میں سہولت کاری پر امریکا کے شکر گزار ہیں۔
ان کاکہنا تھا کہ اب یہ معاملہ صرف روس اور یوکرین کے درمیان رہ گیا ہے۔
روسی صدر کے مطابق روبرٹ فیکو نے انہیں بتایا ہے کہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی آمنے سامنے ملاقات کے لیے تیار ہیں تاہم وہ صرف دیرپا امن معاہدہ طے پانے کے بعد ہی زیلنسکی سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ولادیمیر پیوٹن نے ایران سے متعلق جاری کشیدگی پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایرانی تنازع جلد ختم ہو جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ روس تیل اور گیس کے شعبوں میں چین کے ساتھ ایک اہم معاہدے کے قریب پہنچ چکا ہے جس سے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ روس اور یوکرین کے درمیان 3 روز کے لیے عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک میں 9، 10 اور 11 مئی کو تمام فوجی کارروائیاں معطل رہیں گی۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ان کی درخواست پر اس عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، ان کے مطابق ہر گزرتے دن کے ساتھ اس تنازع کے حل کے قریب پہنچا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک میں شدید لڑائی جاری ہے اور اس تنازع کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور بے گھر ہو چکے ہیں ، یہ جنگ یورپ کی حالیہ دہائیوں کی سب سے بڑی عسکری کشمکش قرار دی جا رہی ہے۔