مرتضیٰ سولنگی اور احمد حسن العربی کی مشترکہ تصنیف میں ’معرکہ حق ‘ سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات

مرتضیٰ سولنگی اور احمد حسن العربی کی مشترکہ تصنیف میں ’معرکہ حق ‘ سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات

سینیئر صحافی مرتضیٰ سولنگی اور بین الاقوامی امور کے ماہر احمد حسن العربی کی مشترکہ تصنیف ’وہ جنگ جس نے سب کچھ بدل دیا‘ منظر عام پر آچکی ہے، جس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ مسلح جھڑپوں، سائبر حملوں اور انٹیلیجنس آپریشنز سے متعلق انتہائی سنسنی خیز اور چونکا دینے والے انکشافات کیے گئے ہیں۔

بھارت کی جنگی ناکامی، چین کو ملوث قرار دینے کی کوشش

مرتضیٰ سولنگی اور بین الاقوامی امور کے ماہر احمد حسن العربی کی مشترکہ کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت نے اپنی عسکری ناکامیوں کو چھپانے کے لیے چین کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کی، حالانکہ زمینی حقائق اس کے برعکس تھے۔ سینیئر انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق چین کا اس جنگ میں کوئی کردار نہیں تھا۔ پاکستان نے بھارت کو دیا گیا مکمل جنگی جواب اپنے داخلی وسائل اور دفاعی اداروں کی صلاحیتوں کے بل بوتے پر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:’وہ جنگ جس نے سب کچھ بدل دیا‘ مرتضیٰ سولنگی اور احمد حسن العربی کی نئی تہلکہ خیز کتاب شائع ہوگئی

آپریشن ’بنیان مرصوص‘ نام کیسے دیا گیا اور کس نے رکھا؟

کتاب میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے ایئر چیف بابر سدھو نے جنگ سے قبل آرمی چیف کو ایک تصویر دکھائی جس میں پاکستانی جنگی طیارے تیار حالت میں دکھائے گئے۔ آرمی چیف اور موجودہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے طیاروں کی تیاری کے ان مناظر کو ’آہنی دیوار‘ سے تشبیہ دی اور قرآنی آیت تلاوت فرمائی، اور بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے آپریشن کا نام ’بنیان مرصوص‘ رکھ دیا، جس کے بعد وزیراعظم کو ’بنیان مرصوص‘ کے نام سے بھارت کے خلاف کارروائی کی تجویز پیش کی جس کی وزیراعظم نے فوراً منظوری دے دی۔

سائبر میدان میں تاریخی کامیابی

کتاب کے انٹیلیجنس چیپٹر میں یہ بھی حیران کن انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے خلاف 4411 سائبر حملے کیے۔ ان حملوں کے نتیجے میں بھارت کے تمام بڑے ایئر بیسز اندھیرے میں ڈوب گئے اور بھارتی جنگی طیاروں کو مکمل تاریکی میں لینڈنگ کرنا پڑی۔ 6 اور 7 مئی کی رات کو ان حملوں نے بھارتی دفاعی نظام کو مکمل مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔

جنگی میدان میں پاکستان کی برتری

کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے وکرم ادتیہ ایئر کرافٹ کیرئیر کو مکمل طور پر ناکارہ ثابت کر دیا، جو پورے معرکہ حق کے دوران ایک مرتبہ بھی سمندر میں داخل نہ ہو سکا۔ علاوہ ازیں پاکستان نے بھارتی ایس-400 دفاعی نظام کے 2 یونٹس (آدم پور اور بھوج) کو نشانہ بنایا، جنہیں سی ایم۔ 400 میزائل کے ذریعے تباہ کیا گیا۔

ڈرون وار، اسرائیلی ٹیکنالوجی پر گرفت

کتاب میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ پاکستان نے اسرائیل ساختہ قیمتی ڈرونز کو نہ صرف ناکارہ بنایا بلکہ ان کی ریورس انجینیئرنگ کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

پہلگام حملہ، بڑی سازش کا پردہ فاش

کتاب میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پہلگام حملہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی بھارت آمد کے تناظر میں تیار کیا گیا تھا، جس کے بعد اگلا حملہ گاندربل میں منصوبہ بندی کے تحت کیا جانا تھا۔ لیکن خفیہ دستاویزات کے لیک ہونے پر بھارت نے 3 اعلیٰ فوجی افسران کو فوری طور پر تبدیل کر دیا، جن میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ڈیفنس انٹیلیجنس، نارتھ کمانڈر اور وائس ایئر مارشل شامل تھے۔

بھارت کی ابتدائی جارحیت اور پاکستان کا سخت ردعمل

کتاب میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت نے 6 مئی سے قبل امبالہ اور آدم پور ایئر بیس سے پاکستان پر 2 ناکام حملے کیے، جنہیں پاکستانی انٹیلیجنس نے بروقت ناکام بنایا۔ 6 اور 7 مئی کو پاکستان نے نہ صرف بھارتی طیارے گرائے بلکہ جنگی اور سائبر دونوں میدانوں میں بھرپور ردعمل دیا۔

خفیہ فائلز “Ex-222” اور بھارت کا کشمیر پر قبضے کا منصوبہ

کتاب میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک خفیہ فائل “Ex-222” کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جس میں بھارت کے آزاد کشمیر میں دراندازی کے منصوبے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ بھارت 0.75 سے 1.25 کلومیٹر کا نیا بارڈر قائم کرنا چاہتا تھا، جس میں اسے بری طرح شکست ہوئی۔

پاکستان کی جوابی حکمت عملی اور جنگی صلاحیت

فضائی معرکہ میں پاکستان نے جے ایف 17 بلاک 3 طیارے کے ذریعے ایس-400 سسٹم کو تباہ کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ کتاب کے مطابق پاکستان نے پہلے سے 3 جنگی مشقیں ترتیب دے کر بھارت کو الجھایا اور اچانک حملے کی حکمت عملی سے دشمن کو حیران کن طور پر نقصان پہنچایا۔

زمینی نقصان اور بھارتی ائیر فورس  کے اعلیٰ عہدیداروں کی معطلی

7 مئی کے بعد بھارتی فضائیہ 7 دن تک فضا میں نہ جا سکی۔ صرف 10 مئی کو ایک طیارے نے انبالہ سے میزائل فائر کیا۔ پاکستان نے سری نگر اور بھولاری ایئر بیسز کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔

سفارتی دباؤ اور جنگ بندی

کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت نے امریکا کے ذریعے پاکستان سے جنگ بندی کی درخواست کی۔ 10 مئی کو دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطہ ممکن ہوا۔ اس سے قبل پاکستان نے کسی بھی بات چیت کو رد کر دیا تھا۔

کتاب میں ملٹری ذرائع کے حوالے سے یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ستمبر یا اکتوبر 2025 میں ایک اور جھڑپ متوقع ہے، جبکہ 2027 میں ایک بڑی جنگ کا خطرہ موجود ہے۔

کتاب کے مطابق’معرکہ حق‘نے پاکستان کو نیٹ ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر مستحکم کیا ہے جبکہ بھارت کا خودساختہ نیٹ سیکیورٹی پرووائڈر کا بیانیہ زمین بوس ہو چکا ہے۔

مرتضیٰ سولنگی اور بین الاقوامی امور کے ماہر احمد حسن العربی کی مشترکہ کتاب’وہ جنگ جس نے سب کچھ بدل دیا‘ نہ صرف ایک جنگی داستان ہے بلکہ ایک اسٹریٹیجک دستاویز بھی ہے جو پاکستان کی عسکری، انٹیلیجنس، سائبر اور سفارتی برتری کو اجاگر کرتی ہے۔ اس کتاب نے نہ صرف بھارت کی کمزوریاں بے نقاب کی ہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو نئے سرے سے متعین کرنے کی بنیاد بھی رکھ دی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *