بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر بہاؤ میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر بہت اونچےدرجےکا سیلاب ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق گنڈا سنگھ والا پرپانی کا بہاؤ بڑھ کر ایک لاکھ88 ہزار 810 کیوسک ہوگیا۔ دریائے ستلج میں بہاولپور اور بہاولنگر کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ ہونے سےمزید کئی دیہات زیر آب آگئے، مکانات اور ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی کو شدید نقصان پہنچا۔
بورے والا میں ساہوکا اور ملحقہ آبادیاں زیر آب آگئیں، ساہوکا چشتیاں روڈ میں شگاف پڑگیا جس کی وجہ سے سیکڑوں دیہاتوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، سیلابی صورت حال کے باعث کشتیوں کےذریعے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی جاری ہے۔
دریائےچناب میں سیلاب کے خطرہ کے پیش نظر لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقلی کے لیے مساجد سے اعلانات کیےگئے، بھارت کی جانب سے ساڑھے3 لاکھ کیوسک کے سیلابی ریلےکی آمد کا خدشہ ہے۔
چناب میں پانی کی سطح ایک دن میں 100فیصد سے زائد بڑھ گئی جس کے بعد فلڈ ریلیف کیمپس قائم کردیے گئے ادھر ہیڈ سلیمانکی اور دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 82 ہزار 140کیوسک تک پہنچ گیا۔
دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر بھی نچلے درجے کا سیلاب آ گیا جہاں پا نی کی آمد 2 لاکھ 17 ہزار 490 کیوسک ریکارڈ کی گئی۔ سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے، تربیلا، کالا باغ، چشمہ اور گڈوپر بھی نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔