وزیرِاعظم شہباز شریف کا سی پیک منصوبوں میں تاخیر پر اظہارِ برہمی، چین روانگی سے قبل وضاحت طلب

وزیرِاعظم شہباز شریف کا سی پیک منصوبوں میں تاخیر پر اظہارِ برہمی، چین روانگی سے قبل وضاحت طلب

وزیرِاعظم شہباز شریف نے چین-پاکستان اقتصادی راہداری ’سی پیک‘ کے کئی اہم منصوبوں میں تاخیر اور مقررہ مدت گزرنے کے باوجود تکمیل نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:’سی پیک‘ کے دوسرے مرحلے کے باقاعدہ آغازکی تیاریاں، وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کا اعلان

وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپنی آئندہ بیجنگ روانگی سے قبل متعلقہ وزارتوں سے تفصیلی رپورٹیں اور وضاحتیں طلب کر لی ہیں۔

اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران وزیرِاعظم نے ہدایت دی کہ تمام متعلقہ وزارتیں تاخیر کی وجوہات پر مبنی مکمل رپورٹس فوری طور پر جمع کروائیں، اور اُن وزارتوں کی فہرست مرتب کی جائے جو منصوبوں پر خاطر خواہ پیش رفت نہ کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ سی پیک منصوبوں کی سست روی ناقابلِ قبول ہے‘۔ وزیرِاعظم نے ہدایت دی کہ زیرِ التوا منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سی پیک پاکستان کی معاشی ترقی، توانائی کے تحفظ، اور علاقائی رابطوں کے لیے نہایت اہم ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق سی پیک منصوبوں میں تاخیر اور ان کے اثرات وزیرِاعظم کے دورہ چین کے دوران چینی قیادت کے ساتھ گفتگو کا مرکزی حصہ ہوں گے۔ شہباز شریف موجودہ منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیں گے اور مستقبل میں ایسی رکاوٹوں سے بچنے کے لیے حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کریں گے۔

مزید پڑھیں:عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے والوں کا ایٹمی پروگرام، سی پیک مکمل نہ کرنے کا بھی مطالبہ ہے : جاوید لطیف

واضح رہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے تحت سی پیک منصوبے گزشتہ چند برسوں میں مختلف رکاوٹوں کا شکار رہے ہیں، جن میں توانائی، انفرا اسٹرکچر اور صنعتی ترقی کے منصوبے شامل ہیں۔ وزیرِاعظم کا یہ تازہ اقدام پاکستان کی جانب سے بیجنگ کو اس اہم اسٹریٹجک شراکت داری میں اپنی سنجیدگی کا پیغام دینے کی کوشش ہے۔

حکومت پر یہ دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ بیجنگ مذاکرات سے قبل زمین پر عملی پیش رفت دکھائے اور ملک کے سب سے اہم اقتصادی منصوبے کو دوبارہ درست سمت میں ڈالے۔

Related Articles