حکومت کی جانب سے آج جمعہ کو پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان متوقع ہے، تاہم اعلان سے قبل ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر “پیٹرول 225 روپے لیٹر کرو” ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہو گیا، جہاں صارفین بڑی تعداد میں حکومت سے پٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے عالمی منڈی میں خام تیل اور پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم پاکستان میں حکومت نے پٹرول کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے پر سوشل میڈیا صارفین اور مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور وفاقی حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
جمعہ کو نئی قیمتوں کے اعلان سے چند گھنٹے قبل ایکس پر ہزاروں صارفین نے پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کے حق میں پوسٹس اور ہیش ٹیگز شیئر کیے، جس کے بعد یہ مطالبہ ٹرینڈ کی صورت اختیار کر گیا۔ صارفین کا مؤقف ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک منتقل کیا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن بھی پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے پٹرول کی قیمت اس سطح پر مقرر نہ کی تو جماعت اسلامی ملک بھر میں احتجاج کے ساتھ ساتھ ہڑتال بھی کرے گی۔
واضح رہے کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ازسرنو تعین عموماً ہر ہفتے بعد کیا جاتا ہے، جس کا اعلان وفاقی حکومت وزارتِ خزانہ کے ذریعے کرتی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق سرکاری نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد کیا جاتا ہے