جیوانی حملے کا مبینہ سرغنہ عطااللہ ولد گاجی خان کالعدم تنظیم بی ایل اے کا کمانڈر ہے اور اس کا تعلق ضلع آواران سے ہے۔
ذرائع کے مطابق عطااللہ کا نام ماضی میں ماہ رنگ لانگو کی جانب سے لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کیا جاتا رہا جبکہ ماہ رنگ لانگو نے متعدد مواقع پر اسے لاپتہ شخص قرار دیتے ہوئے اس کی بازیابی کے لیے احتجاج کیا تھا۔
عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اگر کسی بھی فرد کے خلاف دہشت گردی یا بے گناہ شہریوں کے قتل میں ملوث ہونے کے شواہد موجود ہوں تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔
اس بات پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ ریاستی اداروں کی تمام کارروائیاں آئین اور قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے انجام دی جائیں تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے ہوں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ “مسنگ پرسن” ہونا کسی شخص کی معصومیت کا حتمی ثبوت نہیں جبکہ دوسری جانب الزام ثابت ہونے سے پہلے ہر شہری کو قانونی تحفظ اور شفاف عدالتی عمل کا حق حاصل ہے۔
شہریوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا کہ اگر کوئی شخص دہشتگردی اور بے گناہ پاکستانیوں کے قتل میں ملوث پایا جائے تو اس کیخلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جانی چاہیے ۔
تاہم ریاستی اداروں پر بھی لازم ہے کہ ہر کارروائی آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کی جائے تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے ہوں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دہشتگردی کے متاثرین، لاپتہ افراد کے اہل خانہ اور عام شہری سب کے انسانی حقوق یکساں اہم ہیںمگر جو ملک کیخلاف دہشتگردی میں ملوث ہیں انہیں کسی صورت معاف نہیں کیاجانا چاہیے۔