بھارت کی جانب سے جاری آبی جارحیت کے باعث پاکستان میں شدید ترین سیلاب آ گیا ہے، جس کے باعث 2 لاکھ 10 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ مختلف حادثات میں 2 فوجی جوانوں سمیت کم از کم 15 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) اور گلگت بلتستان (جی بی) کے متعدد علاقوں میں بھی شدید نقصانات ہوئے ہیں ، ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری ہے۔
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران تصدیق کی کہ امدادی کارروائیوں کے دوران 2 فوجی جوان شہید اور 2 زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں فوجی یونٹس کو متحرک کر دیا گیا ہے اور ریسکیو کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’کام کرنے والی سرحد کے قریب سیلاب کے باوجود تمام فوجی چوکیاں پوری طرح فعال ہیں اور سخت نگرانی جاری ہے‘۔
2 لاکھ 10 ہزار سے زیادہ افرادمحفوظ مقامات پر منتقل
ادھر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے بتایا کہ تاحال 2 لاکھ 10 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ 28 ہزار سے زیادہ افراد کو براہ راست ریسکیو کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوری ردعمل کی وجہ سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچا گیا ہے۔
گوجرانوالہ میں 15 افراد جاں بحق
تاہم، گوجرانوالہ ڈویژن میں صورتحال تشویشناک ہے جہاں کم از کم 15 افراد سیلابی پانی کی زد میں آکر جاں بحق ہو گئے۔ سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ سیالکوٹ کی تحصیل سمبڑیال رہا، جہاں ایک ہی خاندان کے 5 افراد جاں بحق ہو گئے۔ گجرات میں 4، نارووال میں 3 جبکہ حافظ آباد میں 2 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی
ادھر محکمہ موسمیات اور این ڈی ایم اے نے اگلے 48 گھنٹوں کے لیے شدید موسلا دھار بارشوں کی وارننگ جاری کر دی ہے، جو 9 ستمبر تک جاری رہنے کا خدشہ ہے۔ مون سون بارشوں کے نئے سلسلے خلیج بنگال اور بحیرہ عرب سے نمی لا رہے ہیں، جس سے شہری سیلاب، ندی نالوں میں طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
راوی ندی کا کیچمنٹ ایریا سب سے زیادہ متاثر ہے، جہاں جسر کے مقام پر 202,020 کیوسک پانی کے ساتھ انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے۔ شاہدرہ اور ہیڈ بلوکی پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، جو قریبی آبادیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
مختلف علاقوں میں سیلاب کا خطرہ
خطرے میں موجود علاقوں میں نارووال، لاہور کے شمالی علاقے، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، قصور اور خانیوال شامل ہیں۔ خاص طور پر لاہور کے علاقے کوٹ محبوب، عزیز کالونی، قیصر ٹاؤن، فیصل پارک، شیخوپورہ کے فیض پور خو، برج اٹاری، کوٹ عبد المالک، ننکانہ کے گنش پور، قصور کی تحصیل پتوکی (پھول نگر، کوٹ سردار)، اور خانیوال کے گوہسپور اور عبدالحکیم دیہات کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
انفراسٹرکچر کی بحالی
فوج نے پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 29 میڈیکل کیمپس قائم کیے ہیں، جہاں 20,700 سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے اور 225 ٹن راشن تقسیم کیا گیا ہے۔ فوجی ہیلی کاپٹرز نے 26 پروازیں کیں، 3 بڑے پل (2 کے پی میں، ایک گلگت بلتستان میں) مرمت کیے گئے، جبکہ 104 سڑکیں سول انتظامیہ کے تعاون سے کلیئر کی گئی ہیں۔ قراقرم ہائی وے مکمل طور پر کھول دی گئی ہے، جبکہ گلگت بلتستان کے دیگر راستے 24 سے 48 گھنٹوں میں بحال ہونے کی توقع ہے۔
حکام نے متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہنگامی صورتحال کے لیے ضروری اشیا جیسے صاف پانی، خشک خوراک، ادویات، اور ٹارچ تیار رکھیں۔ ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی منصوبے فعال کرنے اور حفاظتی اقدامات سخت کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
جوں جوں بارشوں کا نیا سلسلہ قریب آ رہا ہے، پاکستان ایک اور شدید مون سون سیزن کے لیے تیار ہو رہا ہے، جو حالیہ تاریخ کا بدترین سیلاب ثابت ہو سکتا ہے۔
تحصیل پھالیہ میں سیلاب
منڈی بہاؤالدین کی تحصیل پھالیہ میں دریائے چناب کے سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی جس سے 139 دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں اور دریائے چناب کے سیلابی ریلے میں سینکڑوں لوگ پھنس گئے ہیں۔
منڈی بہاؤالدین کی تحصیل پھالیہ میں دریائے چناب کے سیلابئ ریلے نے تباہی مچا دی جس سے 139 دیہات زیر آب آگئے اور سیلابی ریلے میں سینکڑوں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت منڈی بہاؤالدین کی تحصیل پھالیہ دریائے چناب کی تاریخ کی سب سے بڑا سیلابی ریلا گزر رہا ہے اور اس سیلابی ریلے میں تحصیل پھالیہ کے 139 دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں اور سینکڑوں لوگ سیلابی ریلے میں پھنسے ہوئے ہیں۔
10 لاکھ 78 ہزار کیوسک ریلے پر مشتمل دریائے چناب کے سیلابی ریلے نے اپنے راستے میں آنیوالے ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو تباہ کردیا ہے اور بہت سے دیہاتوں کو دیگر شہروں سے زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔
سیلابئ ریلے کے سبب ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے ہیں اور رات کی تاریکی کے سبب ریسکیو کا عمل روک دیا گیا ہے اور صبح ہوتے ہی لوگوں کو دیہاتوں سے ریسکیو کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔