سستا آئی فون مہنگا نہ پڑ جائے ! استعمال شدہ فون خریدنے سے پہلے یہ ضرور پڑھیں

سستا آئی فون مہنگا نہ پڑ جائے ! استعمال شدہ فون خریدنے سے پہلے یہ ضرور پڑھیں

آئی فون دنیا کے مقبول ترین اسمارٹ فونز میں شمار ہوتا ہے، تاہم اس کی بلند قیمت بہت سے صارفین کو نیا فون خریدنے سے روک دیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت کئی ممالک میں استعمال شدہ یا ریفربشڈ آئی فونز کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے ، بظاہر کم قیمت میں آئی فون حاصل کرنا ایک پرکشش سودا محسوس ہوتا ہے، لیکن اگر خریداری میں احتیاط نہ ہو تو بعد میں یہی فیصلہ مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکنڈ ہینڈ آئی فون خرینا بعض اوقات کافی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے اس لیے خریدنے سے پہلے صرف ظاہری حالت دیکھنا کافی نہیں، بلکہ سافٹ ویئر، بیٹری، ہارڈویئر اور فون کی ہسٹری کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

سافٹ ویئر اپ ڈیٹس 

آئی فون خریدتے وقت سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ منتخب ماڈل کو مستقبل میں کتنے عرصے تک iOS اپ ڈیٹس ملنے کا امکان ہے۔ ایپل عام طور پر کئی سال تک اپنے فونز کو سافٹ ویئر سپورٹ فراہم کرتا ہے، لیکن ہر ماڈل ایک وقت کے بعد اپ ڈیٹس سے باہر ہو جاتا ہے۔

اگر کسی فون کو نئی اپ ڈیٹس نہ ملیں تو نہ صرف نئے فیچرز سے محرومی ہوتی ہے بلکہ سیکیورٹی خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔، اس لیے کوشش کریں کہ اپنے بجٹ میں سب سے نیا ممکنہ آئی فون ماڈل خریدیں تاکہ آنے والے برسوں تک اپ ڈیٹس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

مصنوعی ذہانت کے نئے فیچرز ہر آئی فون میں دستیاب نہیں

ایپل کی نئی حکمت عملی کا مرکز مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی فیچرز ہیں۔ تاہم تمام آئی فونز ان سہولیات کو سپورٹ نہیں کرتے۔

مثال کے طور پر صرف جدید اور زیادہ طاقتور چِپس رکھنے والے ماڈلز ہی ایپل کے نئے AI فیچرز استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر آپ مستقبل کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو خریداری سے پہلے یہ ضرور معلوم کریں کہ منتخب فون ان فیچرز کے لیے موزوں ہے یا نہیں۔

پرانے ہارڈویئر کی کارکردگی محدود

ہر نئے آئی فون کے ساتھ ایپل پروسیسر، کیمرہ، بیٹری اور ڈسپلے میں نمایاں بہتری متعارف کراتا ہے،  اس کے مقابلے میں پرانے ماڈلز نہ صرف نسبتاً سست ہوتے ہیں بلکہ کئی جدید سہولیات سے بھی محروم رہ جاتے ہیں جوکہ بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

زیادہ ریفریش ریٹ ڈسپلے، بہتر تھرمل مینجمنٹ، جدید کیمرا فیچرز اور تیز رفتار پروسیسر جیسی خصوصیات عام طور پر نئے ماڈلز میں دستیاب ہوتی ہیں،  اگر آپ گیمنگ، ویڈیو ایڈیٹنگ یا ہیوی استعمال کرتے ہیں تو پرانا آئی فون آپ کی توقعات پوری نہ کر سکے۔

کم اسٹوریج بعد میں پریشانی بن سکتی ہے

مارکیٹ میں اب بھی ایسے کئی استعمال شدہ آئی فون دستیاب ہیں جن میں صرف 64 جی بی اسٹوریج موجود ہے، آج کے دور میں ہائی ریزولوشن تصاویر، ویڈیوز، ایپس اور سسٹم اپ ڈیٹس کی وجہ سے یہ گنجائش بہت جلد ختم ہو جاتی ہے۔

ماہرین کم از کم 128 جی بی یا اس سے زیادہ اسٹوریج والا ماڈل خریدنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ مستقبل میں میموری کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

وارنٹی ختم ہونے کا مطلب اضافی اخراجات

زیادہ تر استعمال شدہ آئی فونز کی کمپنی وارنٹی ختم ہو چکی ہوتی ہے، کیونکہ ایپل ایک سال تک کی وارنٹی دیتا ہے اور فروخت کرنیوالا کم و بیش  ایک سال نکال کر کے ہی اپنے فون کو فروخت کرتا ہے ۔  ایسی صورت میں اگر اسکرین، کیمرہ، بیٹری یا مدر بورڈ میں کوئی خرابی پیدا ہو جائے تو تمام اخراجات صارف کو خود برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

آئی فون کے اصل پرزے نسبتاً مہنگے ہوتے ہیں، اس لیے خریداری سے پہلے ممکنہ مرمتی اخراجات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔

بیٹری ہیلتھ ضرور چیک کریں

استعمال شدہ آئی فون خریدتے وقت سب سے اہم چیز Battery Health ہے، اگر بیٹری ہیلتھ 80 فیصد سے کم ہو تو جلد ہی بیٹری تبدیل کروانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ کمزور بیٹری نہ صرف جلد ختم ہوتی ہے بلکہ فون کی مجموعی کارکردگی بھی متاثر کرتی ہے اور بعض اوقات ڈیوائس اچانک بند بھی ہو سکتی ہے۔

جعلی پرزوں والا فون

کئی استعمال شدہ فونز میں اسکرین، بیٹری یا کیمرہ جیسے پرزے غیر معیاری یا غیر اصل لگائے جا چکے ہوتے ہیں،  ایسے فون وقتی طور پر درست کام کرتے ہیں لیکن بعد میں مختلف مسائل پیدا کر سکتے ہیں ، اس لیے فون کے تمام فیچرز، فیس آئی ڈی، کیمرہ، اسپیکر، مائیک، ٹچ اسکرین اور ٹرو ٹون جیسی خصوصیات ضرور چیک کریں ورنہ ہر ماہ نت نئے خرچے کیلئے تیاررہیں۔

iCloud لاک اور IMEI کی تصدیق لازمی کریں

فون خریدنے سے پہلے یہ یقینی بنائیں کہ ڈیوائس کسی دوسرے صارف کے iCloud اکاؤنٹ سے منسلک نہ ہو۔ اسی طرح IMEI نمبر کی تصدیق بھی ضروری ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ فون گمشدہ، چوری شدہ یا بلاک شدہ تو نہیں، یہ چند منٹ کی جانچ آپ کو مستقبل کے بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے۔

سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ میں احتیاط 

لوگ اکثر سستے فون کی تلاش میں مقامی آن لائن پلیٹ فارمز کا رخ کرتے ہیں لیکن حقیقت میں  یہیں پر فراڈ کا سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے، آن لائن اشتہارات یا غیر معروف دکانوں سے خریداری کرتے وقت دھوکہ دہی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں،  تصاویر میں فون بالکل نیا دکھائی دے سکتا ہے لیکن حقیقت میں اس کی اندرونی حالت مختلف ہو سکتی ہے۔

اگر ممکن ہو تو فون کسی قابل اعتماد دکان یا ایسے فروخت کنندہ سے خریدیں جو واپسی یا چیکنگ کی سہولت فراہم کرتا ہو۔

خریدنے سے پہلے یہ چیک لسٹ ضرور دیکھیں

خریداری سے پہلے چند اہم باتوں کی جانچ ضرور کر لینی چاہیے۔ سب سے پہلے بیٹری ہیلتھ کم از کم 85 فیصد یا اس سے زیادہ ہونی چاہیے تاکہ فون کی کارکردگی بہتر رہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنائیں کہ iCloud لاک مکمل طور پر ختم ہو چکا ہو تاکہ بعد میں کسی قسم کی رسائی کا مسئلہ پیش نہ آئے۔

فون کا IMEI نمبر ضرور چیک کریں تاکہ اس کی اصل حیثیت اور قانونی اسٹیٹس کی تصدیق ہو سکے۔ اسی طرح Face ID، کیمرہ، اسپیکر اور تمام بٹنوں کو اچھی طرح ٹیسٹ کرنا ضروری ہے تاکہ کسی خرابی کا پتا چل سکے۔ اسکرین پر True Tone اور ٹچ فنکشنز کی درستگی بھی ضرور دیکھیں۔

مزید یہ بھی معلوم کریں کہ فون پہلے کبھی کھولا یا مرمت شدہ تو نہیں رہا،  آخر میں بہتر انتخاب کے لیے کم از کم 128 جی بی اسٹوریج والا ماڈل خریدنے کو ترجیح دیں۔

یہ بھی پڑھیں :صارفین کا طویل انتظار ختم ، واٹس ایپ میں نیا زبردست فیچر شامل

استعمال شدہ آئی فون خریدنا غلط فیصلہ نہیں، لیکن صرف کم قیمت دیکھ کر خریداری کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے،  اگر آپ فون کی بیٹری، سافٹ ویئر سپورٹ، ہارڈویئر، وارنٹی اور iCloud اسٹیٹس کی اچھی طرح جانچ کر کے خریدیں تو آپ بہتر اور محفوظ انتخاب کر سکتے ہیں۔

ماہرین بھی یہی مشورہ دیتے ہیں کہ اپنے بجٹ کے مطابق سب سے نیا ممکنہ آئی فون خریدیں تاکہ آنے والے برسوں تک بہترین کارکردگی اور سافٹ ویئر سپورٹ حاصل رہے۔

editor

Related Articles