بھارت سن لے پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، جنگ تو پھر جنگ ہی سہی، بلاول بھٹو

بھارت سن لے پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، جنگ تو پھر جنگ ہی سہی، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان میں حلف برداری کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو کڑی وارننگ دی ہے کہ پاکستان اپنے پانی کے حق اور سندھ طاس معاہدے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور اگر نئی دہلی نے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی تو پاکستان جنگ سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت میں حلف برداری کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پڑوسی ملک بھارت کو سخت لہجے میں خبردار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مودی سرکار یہ بات کان کھول کر سن لے کہ پاکستان اپنے پانی کے حق پر کسی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:مئی 2025 میں فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان نے معرکۂ حق میں شاندار کامیابی حاصل کی، بلاول بھٹو زرداری

اگر اس حق کے تحفظ کے لیے جنگ بھی لڑنا پڑی تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے کیونکہ جنگ تو پھر جنگ ہی ہوتی ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کا پانی روک کر سندھ طاس معاہدے کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی ناپاک کوشش کر رہا ہے، جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ سندھو دریا ہمارا آئینی اور قدرتی حق ہے۔

بین الاقوامی گٹھ جوڑ اور بلوچستان میں دراندازی کا بے نقاب ہونا

اپنے خطاب کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی نے بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ پر بھی کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی دنیا ایران اور فلسطین میں بھارت اور اسرائیل کے مکروہ کردار سے بخوبی واقف ہے اور ہم اس گٹھ جوڑ کو ناکام بنا کر دم لیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے مودی سرکار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مودی جان لے کہ پاک فوج نے انہیں ہمیشہ میدانِ جنگ میں عبرتناک شکست دی ہے، یہی وجہ ہے کہ اب بھارت براہِ راست لڑنے کے بجائے افغانستان کے راستے بلوچستان میں دراندازی اور پاکستان کے اندر بغاوت پھیلانے کی سازشیں کر رہا ہے۔

 ہم دشمن کی ان تمام خفیہ چالوں سے پوری طرح باخبر ہیں اور بلوچستان میں ان کی ہر سازش کا مردانہ وار مقابلہ کریں گے۔

گلگت بلتستان کے عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین

بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام کی حب الوطنی اور تاریخی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہاں کے غیور عوام نے ڈوگرہ راج کے خلاف تاریخی قربانیاں دے کر آزادی حاصل کی۔  انہوں نے یاد دلایا کہ گلگت بلتستان کے عوام آج بھی شہید ذوالفقارعلی بھٹو کو دل سے یاد کرتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے پیپلز پارٹی کو جو مینڈیٹ دیا ہے، وہ ہمارے کندھوں پر ایک بھاری ذمہ داری ہے اور یہاں کے باصلاحیت اور ہنر مند نوجوانوں کو بہترین مواقع فراہم کرنا اور خطے کی مشکلات دور کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

ملکی سیاست اور اتحادی حکومت کا شکریہ

اندرونی سیاست پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں سیاست اب لڑائی جھگڑے کا دوسرا نام بن چکی ہے۔

انہوں نے چند سیاسی جماعتوں کی جانب سے آزاد کشمیر کے انتخابات میں حصہ نہ لینے کے اعلان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

چیئرمین پی پی پی نے گلگت بلتستان میں عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر ملکی بقا اور ترقی کے لیے کام کرتے رہیں گے۔

مزید پڑھیں:آئین کے ارٹیکل 243 میں مجوزہ ترمیم کی حمایت کرتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری کا اعلان

سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹرز ٹریٹی) پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں طے پایا تھا، جس کے تحت دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا فارمولا طے کیا گیا تھا۔

حالیہ چند برسوں میں بھارت کی جانب سے مسلسل اس معاہدے میں یکطرفہ ترامیم اور پاکستانی دریاؤں پر غیر قانونی ڈیموں کی تعمیر کی دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں، جس کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔

دوسری جانب، پاکستان ہمیشہ سے عالمی فورمز پر بھارت کی جانب سے بلوچستان میں افغان سرزمین کے ذریعے دہشتگردی کی پشت پناہی کے ثبوت پیش کرتا آیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا یہ بیان اسی جغرافیائی اور سیاسی تناظر کی کڑی ہے۔

Related Articles