برطانوی وزیر اعظم اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیلی فونک گفتگو ، مشرق وسطی میں کشیدگی بارے تبادلہ خیال

برطانوی وزیر اعظم اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیلی فونک گفتگو ، مشرق وسطی میں کشیدگی بارے تبادلہ خیال

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران برطانیہ اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطہ ،برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم امور پر ٹیلی فونک گفتگو کی ۔

اس رابطے کو موجودہ حالات میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔

برطانوی وزیراعظم آفس کے ترجمان کے مطابق یہ گفتگو ایک ایسے واقعے کے بعد ہوئی جب واشنگٹن میں ایک عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس پر کیئر اسٹارمر نے فوری طور پر صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا اور گہری تشویش کا اظہار کیا۔

برطانوی وزیر اعظم نے نہ صرف صدر ٹرمپ بلکہ ان کے اہل خانہ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیااور زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکار کی جلد صحتیابی کے لیے بھی دعا کی۔

گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی تفصیل سے غور کیا، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کی بحالی پر زور دیا گیا۔

 یہ بھی پڑھیں :اسٹارمر اور میکرون کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، برطانوی وزیراعظم کا مستقل جنگ بندی پر زور

دونوں رہنمائوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں رکاوٹیں نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں جس کے باعث تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

امریکی صدر اور برطانوی وزیر اعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے اور عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔

رابطہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بڑی عالمی طاقتیں موجودہ بحران کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں اور کسی بھی ممکنہ معاشی نقصان سے بچنے کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران مزید حملوں سے باز رہے، برطانوی وزیراعظم کی ایران کو تنبیہ، مذاکرات پر زور

یہ پیش رفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عالمی قیادت نہ صرف سکیورٹی معاملات بلکہ اقتصادی استحکام کو بھی اولین ترجیح دے رہی ہے، اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید سفارتی سرگرمیاں متوقع ہیں۔

editor

Related Articles