عیدالفطر پر 3 روزہ جنگ بندی کے دوران بھی افغانستان سے شیلنگ جاری رہی، 52 عام شہری شہید اور 84 افراد زخمی ہوئے، ترجمان دفتر خارجہ

عیدالفطر پر 3 روزہ جنگ بندی کے دوران بھی افغانستان سے شیلنگ جاری رہی، 52 عام شہری شہید اور 84 افراد زخمی ہوئے، ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحد پر حالیہ صورتحال سے متعلق برطانوی خصوصی نمائندے (ایس آر اے) کے سوشل میڈیا بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے زمینی حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ برطانوی نمائندے کی پوسٹ یک طرفہ ہے اور اس میں سرحد پر جاری کشیدگی کی اصل وجوہات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔  انہوں نے زور دیا کہ ایسے بیانات دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی بے مثال قربانیوں کی توہین اور معروضی نقطہ نظر کے خلاف ہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے وضاھت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ کوئی عارضی جنگ بندی نہیں ہوئی۔ صرف عید کے دوران تین دن کی وقفہ تھا، جو وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو چکا ہے۔

دہشت گردی کی نئی لہر اور جانی نقصان

ترجمان دفتر خارجہ نے انکشاف کیا کہ پاکستان کی جانب سے مارچ 2026 میں 3 روز کے لیے عارضی جنگ بندی کے اعلان کے باوجود افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ اور دراندازی کا سلسلہ جاری رہا، جس میں افغان طالبان کی حمایت یافتہ بھارتی پراکسیز کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے نتیجے میں اب تک 52 پاکستانی شہری شہید اور 84 زخمی ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان حکومت کے خلاف افغان عوام کی بغاوت، افغان شہری کی پاکستانی عسکری قیادت سے مدد کی اپیل

طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ان حملوں کا مؤثر جواب دیتے ہوئے دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ افغان جانب سے شہری ہلاکتوں کے دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں ہے اور نہ ہی ان کے کوئی شواہد پیش کیے گئے ہیں۔

علاقائی صورتحال اور عالمی ذمہ داری

پاکستان نے عالمی برادری اور برطانوی حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ علاقائی حرکیات اور پاکستان کے اصولی موقف کو بہتر طور پر سمجھیں۔ ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کی جڑ کو سمجھے بغیر جاری کیے گئے بیانات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے کا باعث بنتے ہیں۔ پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور سرحد پار سے ہونے والی کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیتا رہے گا۔

پاک افغان سرحدی کشیدگی اور عالمی مداخلت

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد (ڈیورنڈ لائن) پر تناؤ گزشتہ کئی ماہ سے عروج پر ہے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ افغان سرزمین کو کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر بھارتی پراکسیز پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہیں۔

مارچ 2026 میں پاکستان نے خیر اسگالی کے طور پر فوجی کارروائیوں میں توقف کا اعلان کیا تھا، لیکن اس کے بدلے میں افغان جانب سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

برطانوی اور دیگر عالمی نمائندے اکثر اس صورتحال پر بیانات جاری کرتے ہیں، جنہیں پاکستان داخلی معاملات میں مداخلت اور یک طرفہ ہمدردی قرار دیتا ہے۔

بھارتی پراکسیز اور سفارتی محاذ

دفتر خارجہ کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں براہِ راست ’افغان طالبان کی حمایت یافتہ بھارتی پراکسیز‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ پاکستان اب سفارتی محاذ پر دشمن کی سازشوں کو نامزد (نیم اینڈ شیم) کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

برطانوی نمائندے کو کرارا جواب دے کر پاکستان نے یہ پیغام دیا ہے کہ کسی بھی عالمی طاقت کو حقائق مسخ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ 52 شہریوں کی شہادت ایک بہت بڑا جانی نقصان ہے، جو پاکستان کو سرحد پر مزید سخت فوجی اقدامات اٹھانے پر مجبور کر سکتا ہے۔

Related Articles