طالبان اقتدار کے پانچ سال، افغانستان غربت، جمود اور بحران کی دلدل میں پھنس گیا

طالبان اقتدار کے پانچ سال، افغانستان غربت، جمود اور بحران کی دلدل میں پھنس گیا

افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے پانچ برس بعد ملک ایک گہرے انسانی، معاشی اور سیاسی بحران کی تصویر بن چکا ہے جہاں مکمل جغرافیائی کنٹرول کے باوجود مؤثر طرزِ حکمرانی معاشی استحکام اور عوامی شمولیت کا فقدان نمایاں ہے۔

2021 سے 2026 تک کے جائزوں کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت نے اقتدار تو مضبوط کیا مگر ملک کو غربت، بے روزگاری، معاشی جمود، انسانی حقوق کی پابندیوں اور علاقائی عدم استحکام کے ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جس کے اثرات پورے خطے خصوصاً پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

معاشی سطح پر افغانستان کی صورتحال انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ 2021 کے بعد سے ملکی معیشت تقریباً 25 سے 30 فیصد سکڑ چکی ہے جبکہ جی ڈی پی 20 ارب ڈالر سے کم ہو کر تقریباً 14 سے 15 ارب ڈالر کی سطح پر رک گئی ہے۔ فی کس آمدن میں نمایاں کمی واقع ہوئی، لاکھوں افراد بے روزگار ہوئے اور تقریباً 85 فیصد آبادی غربت یا معاشی عدم تحفظ کا شکار ہو چکی ہے۔ غیر ملکی امداد کی معطلی کے باعث سرکاری اخراجات میں 75 فیصد کمی آئی جبکہ بینکاری نظام شدید دباؤ، پابندیوں اور محدود مالی رسائی کے باعث مفلوج ہو کر رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے امریکا کی کوششیں تیز، بڑی پیش رفت سامنے آگئی

افغانستان میں خواتین اور نوجوانوں کی معاشی و سماجی شمولیت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ خواتین کی ملازمت تعلیم اور سماجی سرگرمیوں پر سخت پابندیوں کے نتیجے میں لاکھوں لڑکیاں ثانوی اور اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ خواتین کی ورک فورس میں شمولیت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

خوراک اور صحت کے شعبے میں بھی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ کروڑوں افغان شہری خوراک کی شدید قلت، مہنگائی، علاج معالجے کی ناکافی سہولیات اور بیرونی امداد پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ لاکھوں بچے غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ صحت کا نظام بڑی حد تک عالمی امداد کے سہارے قائم ہے۔ سرحدی رکاوٹوں کے باعث پاکستان جیسے پڑوسی ملکوں سے علاج کی سہولیات تک رسائی بھی متاثر ہوئی ہے۔

انسانی حقوق، میڈیا آزادی اور سیاسی نمائندگی کے میدان میں افغانستان عالمی سطح پر شدید تنقید کی زد میں ہے۔ نصف سے زائد میڈیا ادارے بند ہو چکے ہیں، صحافی جلاوطنی یا بے روزگاری کا شکار ہیں جبکہ سیاسی نظام میں نہ آئینی ڈھانچہ موجود ہے نہ جمہوری نمائندگی اور نہ ہی مؤثر احتسابی نظام۔ فیصلہ سازی محدود قیادت تک مرکوز ہے جس کے باعث داخلی شمولیت اور قومی ہم آہنگی کمزور پڑ رہی ہے۔

سلامتی کے حوالے سے بھی افغانستان مکمل استحکام حاصل نہیں کر سکا۔ داعش خراسان سمیت متعدد شدت پسند گروہ بدستور سرگرم ہیں جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے عناصر کی موجودگی نے پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک میں بھی سکیورٹی خدشات بڑھائے ہیں۔ عالمی طاقتیں بھی افغانستان میں دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانوں اور غیر یقینی صورتحال پر تشویش ظاہر کر رہی ہیں۔

editor

Related Articles