پاکستان میں سوزوکی گاڑیوں کی مانگ بدستور موجود ہے، لیکن قیمتیں تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ سوزوکی کلٹس کا سب سے سستا ماڈل بھی چار ملین روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جس کے باعث خریداروں کے لیے اس گاڑی کو خریدنا مشکل ہوگیا ہے۔
حکومت کی حالیہ ٹیکس اصلاحات کے تحت سیلز ٹیکس 12.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کر دیا گیا ہے اور ساتھ ہی نیو انہانسڈ ویلیو (NEV) لیوی بھی عائد کی گئی ہے۔ ان اقدامات کے بعد سوزوکی کلٹس کے تمام ورژنز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کے بعد زیادہ تر خریدار قسطوں کے ذریعے گاڑیاں لینے پر مائل ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال میں سوزوکی نے میزان بینک کے تعاون سے پانچ سالہ (60 مہینے) قسط پلان متعارف کروا دیا ہے، تاہم دیگر بینکوں سے بھی قیمتوں کا موازنہ کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ٹیکسوں میں کمی نہ کی تو آنے والے مہینوں میں گاڑیوں کی قیمتیں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ خریدار اس وقت قسطوں پر گاڑیاں لینے کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں تاکہ مہنگائی کا دباؤ کم کیا جا سکے۔