بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے جنرل پاسپورٹ میں دوبارہ ‘ سوائے اسرائیل’ کے الفاظ شامل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ جنرل پاسپورٹ میں دوبارہ ‘ سوائے اسرائیل’ کی شرط شامل کی جائےگی اور سفارتی پاسپورٹ میں پہلے ہی اس پر عمل ہوچکا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق بنگلادیشی وزارت داخلہ اور محکمہ امیگریشن و پاسپورٹس ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ فلسطین کے مسئلے پر بنگلا دیش کی دیرینہ خارجہ پالیسی، عوامی جذبات اور اخلاقی مؤقف کے مطابق بحال کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق پاسپورٹ کے واٹر مارک تصاویر میں بھی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں اور نئی شامل کی جانے والی تصاویر میں بازو پھیلائے ابو سعید کی تصویر شامل ہوگی، جو جولائی کی عوامی تحریک کی علامت سمجھی جاتی ہے ، اسی کے ساتھ کئی موجودہ تصاویر کو ہٹایا بھی جائےگا، جن میں شیخ مجیب الرحمان کا مزار اور مجیب نگر یادگار شامل ہیں۔
خیال رہے کہ 2021 میں عوامی لیگ حکومت کے دور میں تقریباً 4500 کروڑ ٹکا کی لاگت سے ای پاسپورٹ سروس شروع کرتے وقت ‘ سوائے اسرائیل’کی عبارت پاسپورٹس سے ہٹا دی گئی تھی، جس پر حسینہ واجد کی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
تاہم گزشتہ برس عبوری حکومت کے دور میں وزات داخلہ نے 7 اپریل کو ایک خط جاری کیا تھا، جس میں حکام کو ہدایت دی گئی تھی کہ پاسپورٹ میں دوبارہ ‘ سوائے اسرائیل’ کی عبارت شامل کی جائے لیکن اُس وقت یہ فیصلہ سفارتی پاسپورٹس کے علاوہ مکمل طور پر نافذ نہیں کیا جاسکا تھا۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، اور روایتی طور پر اس کے پاسپورٹ پر دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہونے کی شرط، سوائے اسرائیل کے، درج رہتی تھی۔