بنگلہ دیش کا بھارت میں ویزا سروسز بند کرنے کا اعلان

بنگلہ دیش کا بھارت میں ویزا سروسز بند کرنے کا اعلان

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت میں اپنے اہم سفارتی مشنز میں ویزا سروسز عارضی طور پر معطل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

اس فیصلے کے تحت نئی دہلی، کولکتہ اور اگر تلہ میں قائم بنگلہ دیشی مشنز میں ویزا خدمات وقتی طور پر بند کر دی گئی ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 2024 کے وسط میں ڈھاکا میں سیاسی بحران کے بعد بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان سفارتی کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

اس حوالے سے بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ ایم توحید حسین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر احتیاطی تدبیر کے طور پر اور سیکیورٹی بنیادوں پر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھارت میں موجود بنگلہ دیش کے تین اہم سفارتی مشنز کو ہدایت دی ہے کہ وہ وقتی طور پر اپنے ویزا سیکشن بند رکھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد کسی بھی قسم کی سفارتی کشیدگی میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ سفارتی عملے اور مشنز کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔

حکام کے مطابق ویزا سروسز کی یہ معطلی نئی دہلی، کولکتہ اور اگر تلہ میں واقع بنگلہ دیشی مشنز تک محدود ہوگی، تاہم بزنس ویزا اور ورک ویزا اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کولکتہ میں قائم بنگلہ دیشی ڈپٹی ہائی کمیشن نے اس فیصلے پر راتوں رات عمل درآمد شروع کر دیا، جب کہ نئی دہلی اور اگر تلہ میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بنگلہ دیشی ایئر چیف کی ملاقات، دوطرفہ دفاعی تعاون فروغ دینے پر تبادلہ خیال

دوسری جانب بھارت کے شہروں ممبئی اور چنئی میں واقع بنگلہ دیشی قونصل خانوں میں ویزا سروسز بدستور معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔ حکام کے مطابق ان مشنز میں سیکیورٹی صورتحال مختلف ہونے کے باعث ویزا خدمات کو معطل نہیں کیا گیا۔

یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان باہمی پابندیوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ یاد رہے کہ بھارت نے 5 اگست 2024 کے بعد بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے ویزا پابندیاں عائد کر دی تھیں، جن کی وجہ بھی سیکیورٹی خدشات کو قرار دیا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق بھارت میں ویزا سروسز کی معطلی جولائی اور اگست 2024 میں طلبا کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کا تسلسل ہے، جس کے نتیجے میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کی عوامی لیگ حکومت کا خاتمہ ہوا۔ ان کے مطابق یہ جوابی اقدامات بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان کشیدہ دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں، جو تاحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں جمہوری روّیے ناپید، اقلیتوں کے خلاف ریاستی جبر کا پردہ بھی فاش

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *