جعلی ڈگری کیس، جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی کام سے روک دیا گیا

جعلی ڈگری کیس، جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی کام سے روک دیا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ صادر کیا ہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی کام کرنے سے روکا جائے، جب تک کہ سپریم جوڈیشل کونسل اس کیس کا فیصلہ نہ کرے۔ یہ فیصلہ ایک مبینہ جعلی ڈگری کیس کے پسِ منظر میں آیا ہے، جس نے عدلیہ میں اعتماد کے مسائل کو دوبارہ اجاگر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جسٹس طارق محمود جہانگیری کیخلاف سوشل میڈیا مہم، صحافیوں کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری

کراچی یونیورسٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ جسٹس جہانگیری کی ایل ایل بی ڈگری جعلی ہے،  یونیورسٹی نے اصرار کیا کہ انہوں نے 2 مختلف انرولمنٹ نمبروں سے ڈگری کی درخواستیں کی تھیں اور پارٹ ون اور پارٹ ٹو کی مارکس شیٹ اور رول نمبرز میں تضادات موجود ہیں۔ یونیورسٹی کا ایک ’انفیئرمینز کمیٹی‘  اور اس کی سفارش پر سینڈیکٹ نے ڈگری کو ’برائے منسوخی‘ کا فیصلہ کیا۔

متعلقہ عدالتی کارروائی

سندھ ہائی کورٹ  نے کراچی یونیورسٹی کے اس فیصلے کو معطل کر دیا ہے اور کہا ہے کہ جسٹس جہانگیری کو کوئی موقع نہیں دیا گیا کہ وہ اپنا دفاع پیش کریں۔ سندھ ہائیکورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ خصوصاً آئین کے آرٹیکل 10 اے مظلوم کو مناسب سماعت کا حق کے تحت یونیورسٹی نے حقِ سماعت کے قانونی تقاضوں اور بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم

منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان کی بنچ نے حکم جاری کیا ہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی فرائض سے معطل کیا جائے، یعنی کام سے روک دیا جائے، جب تک کہ سپریم جوڈیشل کونسل اس معاملے میں فیصلہ نہ کرے۔

سپریم جوڈیشل کونسل سے حکم ہو کہ وہ اس کیس کی سماعت کرے اور فیصلہ دے کہ آیا ڈگری جعلی ہے یا نہیں، کیا اس پر عمل پیرا ہوں یا نہیں، اس کے اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی معاونین بھی نامزد کیے ہیں جن میں سینیئر قانون دان بیرسٹر ظفراللہ خان، سابق اٹارنی جنرل اسٹر اشتر اوصاف  شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:ججز کے تبادلوں و تقریوں سے متعلق کیس کی سماعت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سمیت 3 ججز کو نوٹس جاری

ان معاونین کا کام ہوگا کیس کا جائزہ لینا، ثبوت اکٹھے کرنا، قانونی دلائل تیار کرنا اور عدالت کویہ بتانا کہ کیس کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے امکانات کیا ہیں۔

اٹارنی جنرل سے معاونت کی درخواست

عدالتی حکم میں اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی نوٹس بھیجا گیا ہے تاکہ وہ معاونت فراہم کریں کہ کیا یہ معاملہ قابل سماعت ہے یا نہیں۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہنا ہے کہ وہ قانونی اور آئینی پہلوؤں پردلائل پیش کریں اور یہ بتائیں کہ آیا مفروضات کی بنیاد پرکیس میں شکوک و شبہات ہیں یا ٹھوس شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر معاملہ آگے بڑھایا جائے۔

قانونی اور آئینی نکتہ نظر

سپریم جوڈیشل کونسل کا قیام آئین آرٹیکل 209 کے تحت ہے، جو عدلیہ کے ججوں کے فرضی یا مبینہ بدعنوانی یا نااہلی کی صورت میں تحقیقات اور کارروائی کا اختیار رکھتی ہے۔ کسی جج کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے اصولِ سماعت ڈیو پراسس اور مناسب موقع برائے دفاع فراہم کرنا لازمی ہے۔ یہ آئینی اور قانونی تقاضہ ہے کہ کوئی فیصلہ ایسے وقت نہ کیا جائے جب شک شدہ شخص کو اپنی صفائی کا موقف پیش کرنے کا موقع نہ ملا ہو۔

ممکنہ نتائج اور آئندہ کے امکانات

اگر سپریم جوڈیشل کونسل نے تحقیقات کے بعد ثابت کیا کہ ڈگری جعلی ہے، تو امکان ہے کہ جسٹس جہانگیری کو مستقل معطل یا برطرف کیا جائے، یا تب تک کام سے روکنے کا حکم برقرار رہے۔ اگر جج سعادت مندانہ طور پر اپنا دفاع پیش کر لیں اور شواہد ثابت نہ ہوں تو معاملہ ختم ہو سکتا ہے، اور معطلی بھی ختم ہو سکتی ہے۔ عدالتی معاونین کی رپورٹ اور دلائل اٹارنی جنرل کی معاونت کی بنیاد پر عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ کیس آگے جائے یا نہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *