سائنسدانوں نے شہد کی مکھی کے زہر کو چھاتی کے کینسر کے ممکنہ علاج کے طور پر استعمال کرنے پر تحقیق شروع کر دی ہے، جس نے طبی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
تحقیق کے مطابق شہد کی مکھی کے زہر میں موجود ایک خاص مادہ میلیٹِن (melittin) لیبارٹری تجربات میں کینسر کے کچھ خلیات کو بہت تیزی سے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض تجربات میں یہ مادہ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں کینسر خلیات کو نقصان پہنچانے میں کامیاب رہا، جبکہ صحت مند خلیات بڑی حد تک محفوظ رہے۔
یہ تحقیق خاص طور پر زیادہ خطرناک اقسام جیسے ٹرپل نیگیٹو بریسٹ کینسر پر مرکوز ہے، جو عام علاج کے لیے زیادہ مشکل سمجھی جاتی ہے۔سائنسدانوں کے مطابق میلاتِن کینسر خلیات کی بیرونی جھلی پر حملہ کرتا ہے، جس سے ان کی بڑھوتری اور پھیلاؤ رک سکتا ہے۔
تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور زیادہ تر تجربات لیبارٹری اور جانوروں تک محدود ہیں۔ انسانوں پر کلینیکل ٹرائلز کے بغیر اس علاج کو منظور نہیں کیا جا سکتا۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت حوصلہ افزا ضرور ہے مگر ابھی اسے مکمل علاج کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔