ہر سال 20 مئی کو دنیا بھر میں شہید کی مکھیوں کا دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد شہد کی مکھیوں اور دیگر پولینیٹرز یعنی پولن منتقل کرنے والے کیڑوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ننھی مخلوق دنیا کے غذائی نظام، زرعی پیداوار اور ماحولیاتی توازن کے لیے انتہائی ضروری کردار ادا کرتی ہے۔
یہ دن جدید مگس کے بانی سمجھے جانے والے کی یاد میں منایا جاتا ہے، جو 1734 میں سلووینیا میں پیدا ہوئے تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دنیا کی تقریباً 75 فیصد غذائی فصلیں کسی نہ کسی حد تک پولینیٹرز پر انحصار کرتی ہیں۔ ان میں سیب، آم، کافی، بادام، سورج مکھی، ٹماٹر، کھیرا اور تربوز جیسی اہم فصلیں شامل ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شہد کی مکھیاں پھولوں سے رس جمع کرتے وقت ایک پودے سے دوسرے پودے تک پولن منتقل کرتی ہیں، جس سے فصلوں، پھلوں اور بیجوں کی افزائش ممکن ہوتی ہے۔ اگر شہد کی مکھیوں کی تعداد میں مسلسل کمی آتی رہی تو اس کے اثرات عالمی خوراک، معیشت اور ماحول پر پڑ سکتے ہیں۔
پاکستان جیسے زرعی ملک میں بھی شہد کی مکھیوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں آم، کینو، سرسوں اور سورج مکھی جیسی فصلوں کی بہتر پیداوار میں ان کا اہم کردار ہے۔ ماہرین کے مطابق شہد کی مکھیاں زرعی پیداوار میں 20 سے 40 فیصد تک اضافہ کر سکتی ہیں۔
پاکستان میں شہد کی صنعت بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ پوٹھوہار، چکوال، سوات، گلگت بلتستان اور کشمیر کے علاقے قدرتی شہد کے لیے مشہور سمجھے جاتے ہیں۔ شہد کی مکھی پالنے کے شعبے کوایپی کلچرکہا جاتا ہے، جو کم سرمایہ کاری میں بہتر منافع دینے والی صنعت مانی جاتی ہے۔
دوسری جانب ماہرین شہد کی مکھیوں کی کم ہوتی تعداد پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ زرعی ادویات، موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی کٹائی، آلودگی اور پھولدار پودوں کی کمی ان کے لیے بڑے خطرات بن چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق شہد کی مکھیوں کے تحفظ کے لیے محفوظ زرعی سپرے، زیادہ شجرکاری، قدرتی جنگلات کا تحفظ، جدید تربیت اور ماحولیاتی آگاہی پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شہد کی مکھی ایک چھوٹا سا جاندار ضرور ہے، لیکن اس کا تعلق پوری دنیا کے غذائی نظام اور انسانی بقا سے جڑا ہوا ہے۔