انسدادِ دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے سابق قومی اسمبلی اسپیکر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کے خلاف جوڈیشل کمپلیکس حملے کے کیس میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔ یہ کیس پارٹی کے بانی اور دیگر کئی سینیئر رہنماؤں کے خلاف بھی درج ہے۔
گرفتاری کے احکامات اور پیشی کا حکم
انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے پیر کو کیس کی سماعت کی، جس کے دوران عدالت نے اسد قیصر کو گرفتار کرنے اور عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ یہ کیس انسداد دہشتگردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) میں درج کیا گیا ہے اور اس میں مختلف پی ٹی آئی رہنماؤں پر جوڈیشل کمپلیکس پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
عدالت نے اسد قیصر کے گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کے ساتھ ہی پرویز الٰہی، اسد عمر اور شبلی فراز کی جانب سے دائر کی گئی استثنیٰ کی درخواستیں بھی منظور کر لیں۔ اس کے تحت ان رہنماؤں کو اس سماعت کے دوران ذاتی طور پر پیش ہونے سے معافی دی گئی ہے۔ یہ استثنیٰ ان کے وکلا کی طرف سے جمع کرائی گئی درخواستوں کی بنیاد پر دیا گیا۔
وزارت قانون کا جواب زیر التوا
عدالت نے نوٹ کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی کے حوالے سے وزارت قانون کو بھیجے گئے خط کا ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ جج سپرا نے سماعت کو 6 اکتوبر تک ملتوی کر دیا ہے، جب عدالت گرفتاری کے احکامات کی تعمیل کا جائزہ لے گی اور سماعت دوبارہ شروع کرے گی۔
صورتحال اور آئندہ کے امکانات
یہ کیس ملک کی سیاسی صورتحال میں اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے کئی سینیئر رہنما اس میں نامزد ہیں۔ حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عدالت کے احکامات پر فوری عملدرآمد کیا جائے گا تاکہ قانون کے دائرے میں رہ کر کارروائی مکمل کی جا سکے۔
پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکن اس فیصلے پر مختلف ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں، اور سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بحث جاری ہے کہ یہ کیس آئندہ سیاسی منظرنامے پر کس حد تک اثر انداز ہو گا۔