ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ چین، شمالی کوریا اور جاپان نے ایران سے خام تیل کی خریداری میں تیزی شروع کر دی ہے جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں ایرانی تیل کی رسد بڑھنے اور قیمتوں پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کے راستے ایرانی تیل کی سپلائی میں اضافہ ہوا ہے جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں تیل کی دستیابی بہتر ہوئی ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی تیل کی دوبارہ عالمی منڈی میں رسائی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے تیل کی برآمدات میں اضافے نے عالمی سطح پر توانائی کے شعبے میں نئی صورتحال پیدا کی ہے، جس کے نتیجے میں تیل درآمد کرنے والے ممالک کو ممکنہ طور پر کم قیمتوں پر خام تیل دستیاب ہو سکتا ہے۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تیل کی سپلائی میں اضافے سے عالمی سطح پر مہنگائی میں کمی کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ توانائی کی قیمتیں دنیا بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔
دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے ایران کے تیل کے شعبے سے متعلق عارضی اجازت نامے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کو خام تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کے لیے محدود مدت کا جنرل لائسنس جاری کیا ہے جس کے تحت مخصوص شرائط کے ساتھ ایرانی تیل کی تجارت کی اجازت دی گئی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام سفارتی پیش رفت کے تناظر میں کیا گیا جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے حوالے سے یقین دہانی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔