بھارتی فلمی صنعت میں پاکستان مخالف موضوعات پر مبنی فلموں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں بالی وڈ نے قوم پرستی، جنگی بیانیے اور پاکستان مخالف کہانیوں کو تجارتی کامیابی کے مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان 2025 کی کشیدگی کے بعد متعدد فلم سازوں نے اس موضوع پر فلمیں بنانے میں دلچسپی ظاہر کی۔ ان میں سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا منصوبہ ’’آپریشن سندور‘‘ ہے، جس کی ہدایت کاری معروف فلم ساز وویک اگنی ہوتری جبکہ پروڈکشن ٹی سیریز کر رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسی فلموں میں اکثر حقیقی واقعات کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جہاں بھارتی کرداروں کو غیر معمولی ہیرو جبکہ مخالف فریق کو کمزور یا منفی انداز میں دکھایا جاتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرز کی کہانیاں عوامی جذبات کو متاثر کرنے اور مخصوص سیاسی بیانیے کو تقویت دینے میں کردار ادا کرتی ہیں۔
بالی وڈ میں پاکستان سے متعلق موضوعات نئے نہیں۔ ماضی میں بارڈر، غدر، روجااور دیگر فلموں نے بھی دونوں ممالک کے تعلقات کو موضوع بنایا، تاہم ویر زارااور بجرنگی بھائی جان جیسی فلموں نے محبت، انسانی رشتوں اور امن کے پیغام کو ترجیح دی، جسے ناظرین نے بھی خوب سراہا۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت میں قوم پرستی پر مبنی فلموں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غدر 2، بارڈر 2اور دیگر جنگی یا سیاسی موضوعات پر بننے والی فلمیں باکس آفس پر کامیاب ثابت ہوئیں۔
صرف فلمیں ہی نہیں بلکہ ویب سیریز بھی اس رجحان کا حصہ بن چکی ہیں۔ دی فیملی مین، بارڈر آف بلڈ اور دیگر کئی پروڈکشنز میں پاکستان سے متعلق حساس موضوعات کو مرکزی حیثیت دی گئی، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آتی رہی ہے۔
فلمی مبصرین کا کہنا ہے کہ بعض ہدایت کار، جو ماضی میں تجارتی کامیابیاں حاصل نہیں کر سکے، قوم پرستی اور متنازع سیاسی موضوعات اختیار کرنے کے بعد غیر معمولی شہرت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ وویک اگنی ہوتری کی دی تاشقند فائلز اوردی کشمیر فائلزاس کی نمایاں مثالیں سمجھی جاتی ہیں۔
ناقدین کے مطابق بھارتی سنیما میں پاکستان مخالف موضوعات کی مقبولیت اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آیا یہ محض تفریح ہے یا پھر عوامی رائے پر اثرانداز ہونے کی ایک منظم کوشش۔ ان کے خیال میں بالی وڈ کی ایک بڑی تعداد اب ایسے موضوعات کو ترجیح دے رہی ہے جو جذباتی ردعمل پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ تجارتی کامیابی بھی یقینی بناتے ہیں۔
اسی تناظر میں بعض مبصرین یہ رائے دیتے ہیں کہ بھارتی فلمی صنعت میں پاکستان اب صرف ایک پڑوسی ملک نہیں بلکہ ایک ایسا موضوع بن چکا ہے جسے بار بار کہانیوں کے مرکز میں لا کر ناظرین کی توجہ حاصل کی جاتی ہے۔