وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں مذاکراتی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور امن کے قیام پر حکومتی حکام اور مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کو خراج تحسین پیش کیا ہے، معاہدے میں اہم اصلاحات اور امدادی اقدامات بھی شامل کر لیے گئے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد جموں کشمیر میں مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا پر زور خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے اس مذاکراتی عمل کو پاکستان اور آزاد کشمیر کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور حکومتی اور مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کو اس کارکردگی پر خراج تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ امن کا قیام اور حالات کا معمول پر آنا خوش آئند ہے اور آخرکار سازشیں اور افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔ انہوں نے کشمیری عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں کیونکہ حکومت ہمیشہ کشمیری بھائیوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے۔ شہباز شریف نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اراکین کا بھی امن کے قیام پر شکریہ ادا کیا۔
اہم نکات اور اصلاحات
مذاکرات کے بعد جاری 3 صفحات پر مشتمل نوٹیفکیشن کے مطابق معاہدے کے تحت تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جہاں ضرورت ہو، شہادتوں کے حوالے سے انسداد دہشتگردی ایکٹ کا اطلاق ہوگا اور عدالتی کمیشن بھی تشکیل دیا جائے گا۔
یکم اور 2 اکتوبر کو جان بحق افراد کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دیا جائے گا جبکہ گولی لگنے سے زخمی افراد کو فی کس 10 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔ حکومت 20 دن کے اندر ہر جاں بحق کے خاندان کے ایک فرد کو نوکری بھی دے گی۔
تعلیمی اور صحت کے شعبے میں اصلاحات
معاہدے میں مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن کے لیے 2 اضافی انٹرمیڈیٹ اور سیکنڈری تعلیمی بورڈز کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے جو وفاقی بورڈ سے منسلک ہوں گے۔ ہر ضلع میں مرحلہ وار ایم آر آئی اور سی ٹی سکین مشینیں وفاقی حکومت کی مالی معاونت سے فراہم کی جائیں گی۔ 15 دنوں کے اندر ہیلتھ کارڈ کا نفاذ بھی یقینی بنایا جائے گا۔
انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبے
ضلع میرپور میں منگلا ڈیم اپ ریزنگ پروجیکٹ کے تحت زمینوں کا قبضہ 30 دن کے اندر ریگولرائز کیا جائے گا۔ میرپور میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قیام کا اعلان موجودہ مالی سال میں کیا جائے گا۔ بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے وفاقی حکومت 10 ارب روپے فراہم کرے گی۔ حکومتی کابینہ کا حجم کم کر کے 20 وزرا اور مشیروں تک محدود کیا جائے گا، جبکہ انتظامی سیکرٹریوں کی تعداد بھی 20 سے زیادہ نہیں رکھی جائے گی۔
دیگر اہم اقدامات
احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو ضم کیا جائے گا اور آزاد کشمیر میں احتساب ایکٹ حکومت کے نیب قوانین کے مطابق نافذ ہوگا۔
کہوڑی کامسر اور چپلانی نیلم ویلی روڈ میں دو سرنگوں کی تعمیر کے لیے سعودی ترقیاتی فنڈ سے مالی معاونت کی جائے گی۔
اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی مہاجر اراکین کے معاملات پر غور کرے گی، اور اس دوران مہاجر وزراء کی مراعات اور فنڈز کی تقسیم ملتوی رہے گی۔
بنجوسہ، مظفرآباد، پلاک، دھیرکوٹ، میرپور اور کوٹلی میں تشدد سے متعلق ایف آئی آرز کے اندراج کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔
کشمیر کالونی ڈڈیال اور مینڈر کالونی ڈڈیال میں واٹر سپلائی سکیمز اور مہاجرین کو ملکیتی حقوق دیے جائیں گے۔ 2اور 3 اکتوبر کو راولپنڈی اور اسلام آباد میں گرفتار کشمیری مظاہرین کو رہا کیا جائے گا۔
مانیٹرنگ اور نفاذ
معاہدے کی نگرانی اور نفاذ کے لیے وفاقی حکومت، آزاد کشمیر حکومت اور ایکشن کمیٹی کے نمائندوں پر مشتمل ایک مانیٹرنگ کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو تنازعات کے حل اور فیصلوں کے عمل درآمد کی ذمہ دار ہوگی۔
یہ کمیٹی وفاقی وزیرامورکشمیرانجینئر امیر مقام کی سربراہی میں کام کرے گی اور اس میں وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری، آزاد کشمیر حکومت اور ایکشن کمیٹی کے دو، دو نمائندے شامل ہوں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس معاہدے کو کشمیری عوام کے لیے ایک نیا باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ہمیشہ کشمیری بھائیوں کے حقوق اور مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیح دے گی، اور امن و استحکام کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گی۔