معاشرے کی بہری سماعتیں۔

معاشرے کی بہری سماعتیں۔

پشاور(جوھرشاہ)معاشرے میں ذہنی تناؤ اُس وقت جنم لیتا ہے جب لوگ سچائی سے منہ موڑ کر سنی سنائی باتوں، بے بنیاد عقائد اور غیر منطقی باتوں کو آنکھ بند کرکے ماننے لگتے ہیں

دلیل، شعور اور علم کو صرف کتابوں تک محدود کر دیتے ہیں۔ جب حق بات کہنے والے کم اور جھوٹی تسلیاں دینے والے زیادہ ہو جائیں تو معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے اور ایسی فضا میں صرف بےچینی، خلفشار اور افراتفری پروان چڑھتی ہے۔ حالانکہ انسان کو جو سب سے عظیم نعمت عطا ہوئی وہ اس کا “انسان” ہونا ہی کافی ہے۔ ا

نسان ہی سوچنے، سمجھنےاور فیصلہ کرنے والی مخلوق ہے۔ اللہ تعالی نے ہمیں حیوانوں جیسی زندگی نہیں دی بلکہ عقل، شعور، احساس اور وجدان سے نوازا۔ ان نعمتوں پر اگر ہم شکر ادا کریں تو ذہنی تناؤ اور روحانی بے سکونی ہمارے قریب نہ پھٹکے۔ لیکن افسوس!

انسان بعض اوقات انہی نعمتوں کو نظر انداز کر کے انا، ضد، خودساختہ بھرم اور دوسروں کے کہے میں آ کر ایسے فیصلے کر بیٹھتا ہے جن کی قیمت صرف وہ خود نہیں بلکہ اس کی اگلی نسلیں بھی چکاتی ہیں۔

شہر کے بیچوں بیچ واقع، ایک تنگ سی گلی میں رہائش پذیر مدرس، ماسٹر نظام الدین ہیں جوکہ پیشے کے لحاظ اْستاد اور ایک اچھے رہنما بھی تھے۔ ایک سادہ، دیانتدار، علم دوست استاد، جو برسوں سے بچوں کو پڑھا رہا تھا۔

وہ دوسروں کو تو عقل، دلیل اور سچ کا سبق دیتا تھا، مگر خود ایک ایسی ضد کا شکار ہو گیا جس نے نہ صرف اس کی اپنی زندگی کو بدل کر رکھ دیا، بلکہ اس کے پورے خاندان کو ایک آندھی گلی میں دھکیل دیا، جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا۔

ماسٹر نظام الدین ایک سرکاری اسکول میں پڑھاتا تھا۔ ایک عام سا انسان، مگر اپنی دیانت، شرافت اور پیشے کی محبت نے اْسے محلے بھر میں معزز بنا رکھا تھا۔ اس کے گھر میں تین بیٹیاں تھیں۔ جب اللہ نے ایک بیٹا عطا کیا تو خوشی کی انتہا نہ رہی۔

اُس دن محلے کے ایک بزرگ نے کہا، یہ ایک کافی نہیں، دوسرا بھی اللہ تعالی کی فضل سے آئے گا۔ بچوں کو روکنا نہیں۔ اللہ کی رحمت ہے۔ شاید یہی بات ماسٹر نظام الدین کے دل میں اتر گئی وہ جو دوسروں کو دلیل، سوچ اور شعور کی بات سکھاتا تھا، اْس روز ایک غیر مدلل پیشگوئی پر ایسا ایمان لایا کہ اپنی زندگی کو اسی اصول کے تابع کردی۔

اگلے برس ایک اور بیٹی پیدا ہوئی، مگر اس بار چہرے پر پہلے جیسی خوشی نہ تھی، قسمت نے جیسے فوراً دل جوڑ دیا اور انہی دنوں ایک پرائز بانڈ جوکہ 2 سو روپے مالیت کا تھا، 7 لاکھ 50 ہزار کا بانڈ نکل آیا۔ اللہ کی رحمت سمجھ کر وہ دوبارہ پُرامید ہو گیا، سائیکل سے موٹر سائیکل تک کا سفر طے ہوا اور زندگی ذرا سی آسان ہوئی۔

پھر واقعی ایک اور بیٹا پیدا ہوا۔ اب وہ سات بچوں کا باپ بن چکا تھا۔ پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے۔ زندگی ایک دفعہ پھر خوشگوار ہونے لگی۔ ماسٹر صاحب صبح موٹر سائیکل پر اسکول جاتے، بچوں کو پڑھاتے، گھر آتے، بچوں کے ساتھ وقت گزارتے، دعائیں دیتے اور لیتے لیکن شاید قسمت نے ان خوشیوں کو زیادہ دنوں کے لیے نہیں لکھا تھا۔

ایک دن اسکول جاتے ہوئے سڑک پر اچانک ایک تیز رفتار گاڑی نے ٹکر مار دی، جب آنکھ کھلی تو ایک ٹانگ جسم سے الگ ہو چکی تھی۔ وہ استاد جو زندگی بھر دوسروں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا ہنر سکھاتا تھا اب خود دوسروں کا محتاج بن چکا۔

طویل علاج کے بعد وہ پھر سے اسکول جانے لگا، مگر وہاں اب ماحول ویسا نہ رہا۔ محکمے کے رویے میں سرد مہری آ چکی تھی، باتوں میں طنز تھا اور چہرے پہ ترس کم، بوجھ زیادہ دکھائی دیتا تھا۔ اکثر جملہ سننے کو ملتا، “ماسٹر صاحب، آپ کی غیر حاضری بچوں کے مستقبل پر اثر ڈال رہی ہے”، دل زخمی ہو جاتا، مگر صبر کرتا رہا۔

ابھی ریٹائرمنٹ میں وقت تھا، مگر جسم مزید کام کی اجازت نہ دیتا تھا۔ حالات بگڑتے جا رہے تھے اور ایسے میں ایک اور حادثہ پیش آیا۔ ایک موٹر سائیکل سوار نوجوان کی ٹکر سے دوسری ٹانگ بھی ٹوٹ گئی اور اب وہ مکمل طور پر معذور ہو چکا تھا۔

بستر کا قیدی۔ محکمے نے میڈیکل بورڈ کے ذریعے قبل از وقت ریٹائرمنٹ دے دی، مگر خاندان بڑا ہو چکا تھا، اخراجات آسمان کو چھو رہے تھے جبکہ آمدنی صفر۔ پہلے چھوٹے موٹے قرض لیے، پھر دوستوں سے اْدھار مانگا، شروع میں کسی نے دو ہزار، کسی نے تین ہزار دیے، لیکن جب بار بار ہاتھ پھیلایا تو وہی چہرے نظریں چرانے لگے۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ ماسٹر نظام الدین کو محلے میں بھیک مانگنی پڑی۔

بعض اوقات وہ فاقے کرتا، کبھی بچوں کو بھوکا سلا دیتا۔ اسی طرح خود خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھتا رہتا۔ آخر ایک دن دل برداشتہ ہو کر سڑک پر جا نکلا، ایک تیز رفتار گاڑی کے سامنے آ کھڑا ہوا، مگر کسی راہ گیر نے بچا لیا۔

اسپتال میں ہوش آیا تو وہی شخص سامنے کھڑا تھا، جس نے جان بچائی تھی، لیکن نظام الدین نے اُسے برا بھلا کہا، “مجھے کیوں بچایا؟ ایسی زندگی کا کیا فائدہ جس میں صرف ذلت ہے، زخم ہیں، اور بچوں کی بھوک کا تماشا ہے؟” اسی اسپتال کے ایک کونے میں اس کی بیوی بیٹھی تھی، کم سن بچوں کے ساتھ، ہر آتی جاتی عورت کو اس امید سے دیکھتی کہ شاید کوئی ان کی بیٹیوں کو اپنائے، ان کے دکھ ختم کرے، انہیں عزت سے زندہ رہنے کا موقع دے۔

وہ امیدیں جب نہ پوری ہو سکیں، تو بیوی نے ایک انتہائی قدم اٹھایا۔ دو کم عمر بیٹیوں کو ایک اجنبی عورت کے حوالے کر دیا، جو بظاہر مددگار لگتی تھی، مگر اندر سے بھیڑیوں کی دلال تھی۔ وہ عورت بچیوں کو دوسرے شہر لے گئی اور وہاں چند پیسوں کے بدلے ایک پروفیشنل گروہ پر بھیج دیئے۔ جو انہیں بھیک مانگنے پر مجبور کرتا تھا۔

روزانہ بچیوں کو زخمی کیا جاتا، سوئیاں چبھوئی جاتیں تاکہ وہ روئیں، سسکیں اور لوگ ترس کھا کر زیادہ پیسے دیں۔ پھر ایک دن وہ عورت ان بچیوں کو لے کر شہر کے مرکزی بازار کے دروازے پر کھڑی ہوئی اور بھیک مانگنے لگی، اچانک ایک تیز رفتار گاڑی نے تینوں کو کچل دیا۔ لوگ صرف تماشائی بنے رہے، کچھ نے وڈیوز بنائیں، کچھ گزر گئے اور کچھ کے چہروں پر صرف افسوس نظر ایا۔ مگر ہاتھ نہ بڑھایا۔

ایمبولینس دیر سے آئی جس کی وجہ سے وہ عورت ایک بچی سمیت دم توڑ چکی تھیں، دوسری شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کی گئی۔ ایمرجنسی وارڈ کے سامنے وہ بچی چیخ چیخ کر اپنی بہن کو آوازیں دیتی رہی: “باجی… اُٹھو…،، اُٹھو…”، اُسی لمحے اس کی ماں، جو پانی لینے نکلی تھی، اسے دیکھ کر دیوانہ وار دوڑی، زخمی بیٹی کو سینے سے لگایا، مر چکی بیٹی کو چمٹا کر بس اتنا کہا: “کاش تمہارے ابا ضد نہ کرتے، اللہ کے دیئے پر شکر کرتے، تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ایک مکمل خاندان تھا،

مگر تمہارے ابا ہر اُس بات کو تقدیر مان لیتے جس میں کوئی منطق نہیں ہوتی، بس اس لیے کہ وہ ماسٹر تھے اور لوگ ماسٹروں اور مولویوں کی ہر بات پر آنکھ بند کرکے یقین کر لیتے ہیں۔ ” یہ صرف ایک ماں کا ماتم نہ تھا، بلکہ پورے معاشرے کے منہ پر ایک کڑوا طمانچہ تھا۔

ایک ایسا معاشرہ جو استاد کو صرف عزت دیتا ہے، مگر اُس کے فیصلوں کے نتائج پر سوال نہیں اٹھاتا، جہاں ہم اللہ کی رضا کے نام پر ہر غیرمنطقی بات کو تقدیر مان لیتے ہیں اور جب انجام آتا ہے تو صرف پچھتاوا بچتا ہے۔ چیخیں بچتی ہیں یا پھر ایک معصوم بچی کی آخری سسکی… جو اپنی بہن کو جھنجھوڑتے ہوئے پکارتی ہے: “اُٹھو… ،، اُٹھو باجی، اپ کیوں نہیں بولتی؟،،،،،،،۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *