فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز میچ میں پیراگوئے نے شاندار دفاعی کھیل اور بے مثال مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ترکیہ کو 0-1 سے شکست دے کر ایونٹ سے باہر کر دیا ہے۔
اس فتح کے ساتھ ہی پیراگوئے نے ٹورنامنٹ میں اپنی امیدیں برقرار رکھی ہیں جبکہ ترکیہ کی ٹیم ورلڈ کپ کی دوڑ سے باہر ہو گئی ہے۔
میچ کے دوران ایک کھلاڑی کی کمی کے باوجود پیراگوئے کے کھلاڑیوں نے جس ہمت کا مظاہرہ کیا، اسے فٹ بال ماہرین کی جانب سے شدید سراہا جا رہا ہے۔
میچ کے 64ویں سیکنڈ میں تاریخی گول اور نیا ریکارڈ
میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول پیراگوئے کے مڈفیلڈر میٹیاس گالارزا نے میچ کے آغاز کے صرف 64ویں سیکنڈ میں اسکور کر کے تاریخ رقم کر دی۔
انہوں نے ہاف لائن کے قریب سے پیش قدمی کرتے ہوئے تقریباً 25 میٹر کی دوری سے ایک انتہائی زوردار اور غضب ناک شاٹ لگایا، جو ترکیہ کے گول کیپر کو چھکاتا ہوا سیدھا جال میں جا پہنچا۔یہ گول جاری فیفا ورلڈ کپ 2026 کا اب تک کا تیز ترین گول بن گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس گول سے چند گھنٹے قبل ہی اسکاٹ لینڈ کے خلاف کھیلے گئے میچ میں مراکش کے کھلاڑی اسماعیل سیباری نے 71ویں سیکنڈ میں گول کر کے ریکارڈ بنایا تھا، جسے میٹیاس گالارزا نے محض چند گھنٹوں میں ہی توڑ دیا۔
ریڈ کارڈ کی نئی قانون سازی اور میگوئل المیرون کی معطلی
پیراگوئے کی ٹیم کو پہلے ہاف کے اضافی وقت (انجری ٹائم) میں اس وقت ایک بڑا دھچکا لگا جب ان کے اسٹار مڈفیلڈر میگوئل المیرون کو ریفری نے براہِ راست ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا۔
میگوئل المیرون ورلڈ کپ کی تاریخ میں فیفا کے نئے نافذ کردہ ضابطے ’منہ پر ہاتھ رکھ کر بات کرنے پر پابندی‘ کے تحت سزا پانے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ اس قانون کا مقصد میدان میں ریفریز یا دیگر کھلاڑیوں کے خلاف نازیبا زبان کے استعمال کو روکنا ہے۔
10 کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلہ اور شاندار واپسی
میدان میں صرف 10 کھلاڑی رہ جانے کے باوجود پیراگوئے کے دفاعی حصار نے ترکیہ کے مسلسل اور جارحانہ حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور میچ کے آخری سیکنڈ تک اپنی 0-1 کی برتری کو برقرار رکھا۔
پیراگوئے کے لیے یہ کامیابی اس لیے بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ انہیں اپنے افتتاحی میچ میں میزبان ملک امریکا کے ہاتھوں 1-4 کی بھاری اور عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد اس میچ میں فتح حاصل کر کے پیراگوئے نے ٹورنامنٹ میں شاندار واپسی کی ہے۔
فیفا کے نئے قوانین اور دونوں ٹیموں کا گراف
فیفا ورلڈ کپ 2026 میں تکنیکی اور تادیبی قوانین کے حوالے سے کئی تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں، جن میں سے ایک میچ کے دوران ریفری کے فیصلے پر منہ چھپا کر یا ہاتھ رکھ کر کمنٹس کرنے پر پابندی ہے۔
فیفا نے یہ قانون اس لیے بنایا تاکہ لپ ریڈنگ (لبوں کی جنبش) کے ذریعے کھلاڑیوں کے اچھے یا برے رویے کا صاف پتہ چل سکے اور شفافیت برقرار رہے۔
جہاں تک دونوں ٹیموں کے پس منظر کا تعلق ہے، ترکیہ کی ٹیم حالیہ یورپی مقابلوں میں بہترین کارکردگی کی بدولت اس ورلڈ کپ میں فیورٹ کے طور پر آئی تھی، جبکہ پیراگوئے جنوبی امریکی کوالیفائرز میں مشکلات کا شکار رہنے کے بعد یہاں پہنچا تھا۔
امریکا سے بدترین شکست کے بعد کسی کو امید نہیں تھی کہ پیراگوئے 10 کھلاڑیوں کے ساتھ ترکیہ جیسی مضبوط ٹیم کو روک پائے گا۔
گالارزا کا ماسٹر اسٹروک
25 میٹر کی دوری سے 64ویں سیکنڈ میں گول کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پیراگوئے کے کھلاڑی ذہنی طور پر میچ کے پہلے ہی لمحے سے پوری طرح تیار تھے۔
اس اچانک حملے نے ترکیہ کی دفاعی حکمتِ عملی کو میچ کے آغاز میں ہی تہس نہس کر دیا اور ترکیہ کی ٹیم پورے میچ میں اس نفسیاتی دباؤ سے باہر نہ نکل سکی۔
نئے قانون کا شکار (المیرون کا نقصان)
میگوئل المیرون کا ریڈ کارڈ حاصل کرنا پیراگوئے کے لیے اگلے میچوں میں بڑا نقصان ثابت ہو سکتا ہے۔ فیفا کے نئے قانون ‘منہ پر ہاتھ رکھ کر بات کرنے’ کے تحت ریڈ کارڈ ملنا یہ ثابت کرتا ہے کہ اب کھلاڑیوں کو میدان میں جسمانی کھیل کے ساتھ ساتھ اپنی جذباتی حرکات پر بھی شدید کنٹرول رکھنا ہوگا۔
المیرون کی یہ غلطی ان کی ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر کر سکتی تھی، لیکن ان کے ساتھیوں نے اس کا اثر نہیں ہونے دیا۔