عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں گر گئیں

عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں گر گئیں

امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں مسلسل غیر یقینی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں اچانک بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔

گزشتہ روز کی تیزی کے بعد بدھ کے روز عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے سرمایہ کاروں کو تذبذب میں مبتلا کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق اچھی خبرآ گئی، تیل کی قیمتیں گر گئیں

مارکیٹ ذرائع کے مطابق، بدھ کے روز بین الاقوامی معیار کے حامل ’برینٹ خام تیل‘ کی قیمت میں 1.42 ڈالر کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی فی بیرل قیمت 98.16 ڈالر کی سطح پر آ گئی۔

دوسری جانب، امریکی مارکیٹ کے انڈیکس ’ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ‘ خام تیل کی قیمت بھی 1.66 ڈالر کم ہو گئی، جس کے بعد امریکی تیل اب 92.23 ڈالر فی بیرل پر معامله کیا جا رہا ہے۔

قیمتوں میں اتار چڑھاؤ

عالمی منڈی میں تیل کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے گزشتہ چند روز کے واقعات پر نظر ڈالنا ضروری ہے

امریکی فوجی کارروائی

واضح رہے کہ منگل کے روز امریکی فوج کی جانب سے جنوبی ایران میں اچانک حملے کیے گئے تھے۔ ان حملوں کی خبریں منظرِ عام پر آتے ہی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اور بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

مذاکرات کی غیر یقینی صورتحال

امریکا اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے کی بحالی اور پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے پسِ پردہ اور علانیہ مذاکرات طویل عرصے سے جاری ہیں۔

جب بھی مذاکرات میں کامیابی کی امید نظر آتی ہے تو مارکیٹ میں ایرانی تیل کی باقاعدہ واپسی کی امید پر قیمتیں گرتی ہیں، اور جب مذاکرات تعطل کا شکار ہوتے ہیں یا فوجی تصادم ہوتا ہے تو قیمتیں یکدم اچھل جاتی ہیں۔

مارکیٹ کس طرف جا رہی ہے؟

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز آنے والی کمی دراصل منگل کے روز ہونے والے اضافے کا ’تکنیکی ردِعمل‘ ہے۔

Related Articles