ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض دوست ممالک کو ٹرانزٹ فیس سے استثنیٰ دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ خطے میں کشیدگی اور مذاکرات کے حوالے سے سخت بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
ماسکو میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے اس وقت کچھ دوست ممالک کو آبنائے ہرمز میں ٹرانزٹ فیس سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں دوست ممالک کو آگاہ بھی کر دیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی وزارت خارجہ اس پالیسی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے امریکا ایران مذاکرات پر بات کرتے ہوے کہا کہ اگر مخالف فریق مذاکرات چاہتا ہے تو ایران بات چیت کے لیے تیار ہے تاہم اگر کسی جانب سے جنگ کا راستہ اختیار کیا گیا تو ایران بھی مکمل طور پر تیار ہے۔
اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر حامد رضا نے بیان میں کہا تھا کہ آبنائے ہرمز پر عائد ٹرانزٹ فیس سے پہلی آمدن ایران کو حاصل ہو گئی ہے جسے مرکزی بینک کے اکاؤنٹ میں جمع کروا دیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حامد رضا نے اس آمدن کی تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ یہ رقم کس ذریعے اور کن فریقوں سے حاصل کی گئی ہے۔
آبنائے ہرمز جہاں سے عالمی توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے پہلے ہی خطے میں کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے اور اس نئے مالیاتی و سفارتی اقدام نے صورتحال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔