امریکی دباؤ اور سخت تجارتی شرائط کے نتیجے میں بھارت نے روس سے تیل کی خریداری تقریباً 50 فیصد تک کم کر دی ہے جس سے اس کے آزاد خارجہ پالیسی کے دعوے ایک بار پھر سوالات کی زد میں آگئے ہیں۔
واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان حالیہ مذاکرات میں امریکا نے واضح طور پر خبردار کیا کہ اگر بھارت روسی تیل کی درآمدات جاری رکھتا ہے تو اسے اضافی ٹیرف اور اقتصادی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان مذاکرات کے بعد بھارتی ریفائنریوں نے روسی تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی کر دی ہے اوراطلاعات کے مطابق آئندہ چند ماہ میں یہ انحصار بتدریج ختم کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہی ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں روسی تیل کی خریداری روکنے کی یقین دہانی کرائی ہے جس پر وہ خوش ہیں۔
تاہم بھارت کی وزارتِ خارجہ نے حسبِ روایت امریکی صدر کے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنی توانائی پالیسی خود مختاری کے اصول کے تحت طے کرتا ہے۔